اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 197 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 197

حاب بدر جلد 3 197 حضرت عمر بن خطاب تمام اسلامی فوجیں شمالی شام میں جمع ہو جائیں۔چنانچہ انطاکیہ اور حماة، حلب اور قریب کی تمام فوجی چھاؤنیوں کے لشکر حمص میں اکٹھے کر دیے گئے۔ادھر سارے ملک میں یہ خبر پھیل گئی کہ ہر قل کی فوجیں بحری رستے سے آرہی ہیں اور جزیرہ کے قبائل حملے کے لیے حمص کی طرف روانہ ہو گئے ہیں چنانچہ گرد نہیں بڑھا بڑھا کر لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ قیصر اور اس کے حلیفوں کا یہ نیا حملہ کس چیز سے روکا جائے گا اور جب ہر قل کے جہاز انطاکیہ پہنچے تو شہر کے دروازے فوج کے لیے کھل گئے۔رعایا مسلمانوں کے خلاف ہو گئی اور تمام شمالی شام میں بغاوت کے شعلے بھڑکنے لگے۔حضرت ابو عبیدہ نے اپنے آپ کو حمص میں محصور پایا جسے باغیوں نے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور دشمنوں کو سمندر اور صحرا دونوں طرف سے اپنی سمت بڑھتے دیکھا تھا۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے امیر المومنین کی خدمت میں ایک عریضہ ارسال کیا ہے جس میں اس نازک مرحلے پر ان سے مدد طلب کی ہے۔اس کے بعد ان سے پوچھا کہ مسلمان دشمنوں سے باہر نکل کر مقابلہ کریں یا مدینہ سے آنے والی کمک کے انتظار میں قلعہ بند ہو کر لڑیں۔صرف خالد بن ولید نے میدان سے نکل کر لڑنے کا مشورہ دیا باقی تمام فوجی افسران کی یہ رائے تھی کہ قلعہ بند ہو کر جلد سے جلد کمک طلب کرنی چاہیے۔حضرت ابو عبیدہ نے ان لوگوں کی رائے قبول کر لی جنہوں نے قلعہ بند ہونے کا کہا تھا اور حضرت خالد کے مشورے سے اختلاف کیا کہ باہر نکل کے لڑا جائے۔چنانچہ مورچوں کو اور مضبوط کر کے بار گاہِ خلافت میں اپنے ساتھیوں کی رائے لکھ بھیجی۔حضرت عمرؓ اس بات کو کبھی فراموش نہ ہونے دیتے تھے کہ عراق اور شام کے اسلامی لشکروں کو اگر کبھی اس قسم کا خطرہ در پیش آگیا تو اسلامی فتوحات اسی ابتلا سے دو چار ہو جائیں گی جن کا سامنا ہو رہا تھا اور جس سے وہ اپنی خلافت کے دن سے دوچار تھے یعنی شروع دن کی جو حالت تھی وہ اب بھی ہو سکتی تھی۔اس لیے حضرت عمر نے بصرہ اور کوفہ آباد کرنے کا حکم دیا تھا اور اسی لیے ان دونوں شہروں کو مسلمانوں کی فوجی چھاؤنیاں بنایا تھا کہ جہاں کوئی غیر مسلم آباد نہیں تھا۔اس کے علاوہ دوسرے سات شہروں میں سے ہر شہر میں چار ہزار سوار مقرر کیے تھے جو ہر وقت اس قسم کی ہنگامی ضروریات کے لیے کیل کانٹے سے لیس رہتے تھے۔چنانچہ جب حضرت ابو عبیدہ کا خط بارگاہ خلافت میں پہنچا اور حضرت عمر نے محسوس کیا اور فرمایا کہ مسلمانوں کا یہ عظیم سپہ سالار ایک بہت بڑے خطرے میں گھر گیا ہے تو حضرت سعد بن ابی وقاص کو فوری حکم دے کر روانہ کیا کہ جس دن تمہارے پاس خط پہنچے اسی دن قعقاع بن عمرو کو امدادی فوج کے ساتھ حمص بھیج دو، ابو عبیدہ وہاں محصور ہیں۔جتنی جلدی اور جتنی تیزی سے ممکن ہو کمک انہیں پہنچ جانی چاہیے۔حضرت سعد نے اسی دن امیر المومنین کے حکم کی تعمیل کی اور قغقاع کی سرکردگی میں چار ہزار تجربہ کار سواروں کی فوج فراہم ہو کر کوفہ سے جمع کی طرف چل پڑی۔معاملہ اتنا خطر ناک تھا کہ محض چار ہزار فوج لے کر قعقاع کا اس کے مقابلے کے لیے چلے جانا کافی