اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 169
اصحاب بدر جلد 3 169 حضرت عمر بن خطاب اس کے بعد پھر لاذقیه کی فتح ہوئی جو چودہ ہجری کی ہے۔اسلامی لشکر نے حضرت ابوعبیدہ کی سرکردگی میں لاذقیہ کا رخ کیا جو شام کا ایک شہر ہے اور ساحل سمندر پر واقع ہے اور حمص کے نواحی علاقوں میں اس کو شمار کیا جاتا ہے۔لاذقیہ والوں نے جب اسلامی لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا تو قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے اور شہر کے دروازے بند کر کے مقابلے کے لیے آمادہ ہو گئے۔انہیں اطمینان تھا کہ اگر مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا تو وہ مقابلے کی طاقت رکھتے ہیں اور اتنی دیر میں سمندر کے راستے انہیں ہر قل سے کمک پہنچ جائے گی۔مسلمانوں نے اس شہر کا محاصرہ کر لیا۔حفاظتی انتظامات کے لحاظ سے یہ شہر بہت مضبوط تھا اور فوجی چوکیوں کی وجہ سے کافی مشہور تھا۔رض حضرت ابوعبیدہ نے اس کو فتح کرنے کی ایک نئی ترکیب نکالی کیونکہ آپ جنگی حکمت عملی جانتے تھے۔انہوں نے محسوس کر لیا کہ اسے سر کرنا، فتح کرنا بہت مشکل ہے۔اگر وہ اس کے مقابلے پہ خیمہ زن ہو جاتے ہیں تو عرصہ قیام بہت لمبا ہو جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لمبا عرصہ کا جو یہ محاصرہ ہے اس دوران دشمنوں کی طرف سے ان کو مدد بھی پہنچ جائے اور یہاں سے ناکام لوٹنا پڑے یا پھر شہر کا محاصرہ زیادہ لمبا کیا جائے تو انکا کیہ جانانا ممکن ہو جائے گا تو آپ نے ایک رات میدان میں بہت سے گہرے گڑھے کھدوائے اتنے کہ گھوڑے پر سوار بیٹھا ان میں چھپ جائے اور انہیں گھاس سے چھپا دیا اور صبح محاصرہ اٹھا کر حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔شہر والوں نے محاصرہ اٹھتے دیکھا تو خوش ہوئے اور اطمینان سے شہر کے دروازے کھول دیے۔دوسری طرف حضرت ابو عبیدہ راتوں رات اپنی فوج سمیت واپس آگئے اور ان غار نما گڑھوں میں چھپ گئے۔صبح جب شہر کے دروازے کھلے تو مسلمانوں نے ان پر حملہ کر دیا کچھ مسلمانوں نے شہر کے دروازے پر قبضہ کر لیا جو قلعہ سے باہر تھے انہوں نے بھاگنے میں اپنی عافیت جانی اور جو شہر میں موجود تھے ان پر خوف طاری ہو چکا تھا۔لہذا جو لوگ شہر میں تھے ان میں سے ہر ایک راہ نجات کی جستجو میں لگ گیا۔ان کے لیے اطاعت اور تسلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔چنانچہ انہوں نے صلح کر لی اور بھاگنے والوں نے امان چاہی۔مسلمانوں نے شہر میں داخل ہو کر شہر کو فتح کر لیا۔حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے جزیے پر صلح کرلی اور ان کا گر جا انہی کے قبضے میں رہنے دیا اور بعد میں مسلمانوں نے اس کے قریب ہی اپنی ایک مسجد بنالی۔309 اس فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے لکھا کہ اس سال مزید پیش قدمی نہ کی جائے۔پھر فتح قنسرین ہے۔یہ پندرہ ہجری کی ہے۔حضرت ابوعبیدہ بن جراح “ نے حضرت خالد بن ولید کو قنسرین کی طرف روانہ کیا جو صوبہ حلب کا ایک بارونق شہر تھا۔حلب کے راستے میں پہاڑ کے در میان قنسرین کا قلعہ واقع تھا۔حضرت خالد بن ولید حاضر مقام کے قریب پہنچے۔حَاضِرُ بھی حَلب کے قریب ایک مقام ہے اس جگہ رومی لوگ میںاس کی زیر قیادت آپ کے مقابلے میں آگئے۔ھر قل کے بعد روم کا سب سے بڑا سپہ سالار میناس ہی تھا۔بہر حال وہاں کے باشندوں نے اور جو اُن کے ہاں 310