اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 140
اصحاب بدر جلد 3 140 حضرت عمر بن خطاب حاضر ہوا۔حضرت عمرؓ نے اس وفد کے سامنے یہ سوال رکھا کہ مفتوحہ علاقوں میں کیوں بار بار عہد شکنی اور بغاوت ہو جاتی ہے۔حضرت عمرؓ نے اس شبہ کا اظہار کیا کہ مسلمان مفتوحہ علاقوں کے باشندوں کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہوں گے تبھی عہد شکنی ہو رہی ہے۔وفد نے اس امر کی تردید کی۔انہوں نے کہا نہیں اس طرح نہیں ہے اور بتایا کہ ہمارے علم میں تو مسلمان پوری وفاداری اور حسن انتظام سے کام لیتے ہیں۔حضرت عمر نے پوچھا تو پھر اس گڑبڑ کی کیا وجہ ہے ؟ باقی ارکان وفد تو اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے مگر احنف بن قیس بولے کہ امیر المومنین ! میں آپ کو اصل صورت حال سے مطلع کر تا ہوں۔بات یہ ہے کہ آپ نے ہمیں مزید فوجی اقدام کی ممانعت کر دی ہے کہ مزید جنگ نہیں کرنی اور اس علاقے پر ڑ کے رہنے کی ہدایت کی ہے جو اب تک فتح ہو چکا ہے مگر ایران کا بادشاہ ابھی زندہ موجود ہے اور جب تک وہ موجود ہے ایرانی ہم سے مقابلہ جاری رکھیں گے اور یہ کبھی ممکن نہیں کہ ایک ملک میں دو حکومتیں ہو سکیں۔بہر صورت ایک دوسری کو نکال کر رہے گی۔یا ایرانی رہیں گے یا ہم رہیں گے۔اس نے کہا کہ آپ کو علم ہے کہ ہم نے کسی علاقے کو بھی خود نہیں کیا بلکہ دشمن کے حملہ آور ہونے کے باعث فتح کیا ہے۔ہم نے تو خود کبھی جنگ کی نہیں اور یہی آپ کا حکم تھا۔دشمن حملہ کر تا تھا تو مجبور جنگ کرنا پڑتی تھی اور پھر علاقے فتح بھی ہو جاتے تھے۔بہر حال اس میں مسلمانوں میں سے بھی ان لوگوں کے لیے یہ واضح ہو گیا جو جنگوں کو بلاوجہ کرنے کے جواز پیش کرتے ہیں اور اسلام پر اعتراض کرنے والوں کا جواب بھی اس میں آگیا ہے کہ مسلمان کبھی زمینیں حاصل کرنے کے لیے، ملک فتح کرنے کے لیے جنگیں نہیں کرتے تھے۔ان پر حملے ہوئے تو امن قائم کرنے کے لیے جنگیں کرتے تھے اور پھر فتوحات بھی ہوتی تھیں۔بہر حال انہوں نے کہا کہ یہ فوجیں ان کے بادشاہ کی طرف سے آتی ہیں اور ان کا یہ رویہ آئندہ بھی اس وقت تک جاری رہے گا جب تک آپ ہمیں اس امر کی اجازت نہ دیں کہ ہم آگے فوج کشی کے اقدام کریں اور بادشاہ کو فارس سے نکال دیں۔اس صورت میں اہل فارس کی دوبارہ فتح کی امید منقطع ہو سکتی ہے۔230 اور بات بھی یہی تھی۔حضرت عمرؓ نے اس رائے کو صائب قرار دیتے ہوئے یہ سمجھ لیا کہ اب ایران میں مزید پیش قدمی کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔مجبوری ہے اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا اور مسلمانوں کا خون ہو تا رہے گا، جنگیں ہوتی رہیں گی مگر اس کا عملی فیصلہ پھر بھی حضرت عمر نے ڈیڑھ دو سال کے بعد 121 ہجری میں نہاوند کے معرکے کے بعد کیا جبکہ ایرانی زبر دست طاقت کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلے کے لیے نکلے تھے اور نہاوند کے مقام پر ایک زبر دست جنگ ہوئی تھی۔231 جنگ نهاوند کو فتح الفتوح بھی کہتے ہیں۔ایران اور عراق میں مسلمانوں کی جنگی مہم میں تین