اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 129
تاب بدر جلد 3 129 حضرت عمر بن خطاب جب یہاں پہنچے تو انہوں نے شہر کا محاصرہ کر لیا۔مہینوں محاصرہ رہا۔ایرانی وقتاً فوقتاً قلعہ سے باہر نکل کر حملہ آور ہوتے رہے۔اس طرح استی 80 معر کے ہوئے۔مسلمانوں نے جلولاء کی فتوح کا حال حضرت عمر کو لکھا اور یہ بھی لکھا کہ حضرت قعقاع حلوان میں خیمہ زن ہیں۔نیز خط میں حضرت عمرؓ سے اہل عجم کا تعاقب کرنے کی اجازت مانگی گئی مگر آپ نے یہ بات منظور نہیں کی کہ تعاقب نہیں کرنا۔پیچھے نہیں جانا بلکہ فرمایا میں چاہتا ہوں کہ سوادِ عراق اور ایران کے پہاڑ کے درمیان دیوار حائل ہوتی تا کہ نہ ایرانی ہماری طرف آتے اور نہ ہم ان کے علاقوں میں جاتے۔ہمارے لیے سواد عراق کا دیہاتی علاقہ کافی ہے۔میں مال غنیمت حاصل کرنے پر مسلمانوں کی سلامتی کو ترجیح دیتا ہوں۔اس بات کا مجھے کوئی شوق نہیں کہ مالِ غنیمت اکٹھا کروں۔مسلمانوں کی حفاظت، ان کی جان کی حفاظت زیادہ ضروری ہے۔ایک روایت کے مطابق حضرت سعد نے قُضَاعِی بن عمر و دولی کے ہاتھ حمس میں سے سونے چاندی کے برتن اور کپڑے اور ابو مُفَكِّر اسوذ کے ہاتھ قیدی بھجوائے۔دوسری روایت کے مطابق خمس قُضَاعِی اور ابو مُفَرِّر کے ہاتھوں بھیجا گیا تھا اور اس کا حساب زیاد بن ابو سفیان کے ذریعہ بھیجا گیا کیونکہ وہ حساب کتاب کے منشی تھے اور اسے رجسٹروں میں محفوظ رکھتے تھے۔جب یہ سارا کچھ حضرت عمرؓ کے پاس پہنچا تو زیاد نے مالِ غنیمت کے بارے میں حضرت عمرؓ سے گفتگو کی اور اس کی تمام تفصیلات کہہ سنائیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا: کیا تم مسلمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو بیان کر سکتے ہو۔یہ تفصیلات جو مجھے بتارہے ہو۔زیاد نے جواب دیا خدا کی قسم ! روئے زمین پر آپ سے زیادہ میرے دل میں کسی کا ڈر نہیں اور جب آپ کے سامنے میں نے بیان کر دیا تو اوروں کے سامنے کیوں نہیں بیان کر سکوں گا۔چنانچہ حضرت زیاد نے لوگوں کے سامنے کھڑے ہو کر تمام حالات بیان کیے اور مسلمانوں نے جو کارنامے سر انجام دیے تھے ان کا بھی ذکر کیا کہ کس طرح جنگ ہوئی، کس طرح مال غنیمت ہاتھ آیا، نیز کہا مسلمان اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ وہ دشمن کے ملک میں آگے تک دشمنوں کا تعاقب کریں۔حضرت عمر نے ان کی تقریر سن کر فرمایا: یہ بہت بڑا صاحب لسان خطیب ہے۔زیاد نے کہا: ہماری فوج نے اپنے کارناموں کے ذریعہ ہماری زبان کھول دی ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عمر کے پاس ٹمس پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ اس قدر کثیر مالِ غنیمت ہے کہ کسی چھت تلے نہ سما سکے گا۔لہذا میں بہت جلد اس کو تقسیم کر دوں گا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف اور عبد اللہ بن ارقم مسجد کے صحن میں اس مال کی رات بھر چوکیداری کرتے رہے۔مال آیا مسجد کے صحن میں رکھا گیا تو یہ دو صحابہ اس کی حفاظت کرتے رہے۔جب صبح ہوئی تو حضرت عمرؓ لوگوں کے ساتھ مسجد میں آئے اور مال غنیمت سے کپڑا اٹھایا گیا تو آپ نے یا قوت ، زبر جد اور بیش قیمت جو اہرات دیکھے اور رو پڑے۔حضرت عبد الرحمن نے حضرت عمر سے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ کیوں رو رہے ہیں۔اللہ کی قسم ! یہ تو شکر کا مقام ہے۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا: اللہ کی قسم مجھے