اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 124

حاب بدر جلد 3 124 حضرت عمر بن خطاب کرنے کے لیے بلا لیا جو ایک نہایت نازک وقت میں اپنے معاہدات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دشمن سے جاملے تھے۔گو مدینہ کی مجلس مشاورت نے انہیں اس امر کی اجازت دے دی تھی کہ چاہے ایسے ایرانیوں کو واپس بلا لیں چاہے نہ بلائیں اور ان کی اراضی آپس میں تقسیم کر لیں۔مسلمانوں میں اراضی تقسیم کر دیں۔مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ اس خطرے کے وقت میں بد عہدی کرنے والوں کو واپس بلایا گیا تو ان کی اراضی پر عام اراضی کی نسبت زیادہ ٹیکس لگایا گیا تھا۔صرف یہ ایک شرط تھی کہ ٹھیک ہے تم نے بد عہدی کی ہے۔واپس آجاؤ اپنی زمینیں آباد کرو لیکن جو ٹیکس زمین کا ہے وہ تمہیں دوسروں کی نسبت زیادہ دینا پڑے گالیکن بہر حال زمینوں کے مالک بے شک بنے رہو۔عراق کی فتوحات کے سلسلہ میں اس جنگ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔مسلمان مجاہدین نے شدید مخالف حالات کا نہایت ثابت قدمی سے مردانہ وار مقابلہ کیا اور مؤرخین نے ذکر کیا ہے کہ دربار خلافت سے جب لوگوں کے لیے گزارے مقرر ہوئے تو اس ضمن میں قادسیہ میں شرکت بھی ایک وجہ امتیاز کبھی گئی۔حضرت عمر نے قادسیہ میں شریک لوگوں کے زیادہ وظیفے مقرر کیے۔210 حضرت مصلح موعودؓ نے جنگ قادسیہ کا ذکر کرتے ہوئے جو فرمایا ہے اس میں سے کچھ حصہ بیان کرتا ہوں۔”حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب خسرو پرویز کے ہوتے یزد جرد کی تخت نشینی کے بعد عراق میں مسلمانوں کے خلاف وسیع پیمانہ پر جنگی تیاریاں شروع ہو گئیں تو حضرت عمرؓ نے ان کے مقابلہ کے لئے حضرت سعد بن ابی وقاص کی سر کردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت سعد نے جنگ کیلئے قادسیہ کا میدان منتخب کیا اور حضرت عمرؓ کو اس مقام کا نقشہ بھجوا دیا۔حضرت عمرؓ نے اس مقام کو بہت پسند کیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ پیشتر اس کے کہ شاہ ایران کے ساتھ جنگ کی جائے تمہارا فرض ہے کہ ایک نمائندہ وفد شاہ ایران کے پاس بھیجو اور اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دو۔چنانچہ انہوں نے اس حکم کے ملنے پر ایک وفد یزدجرد کی ملاقات کے لئے بھجوا دیا۔جب یہ وفد شاہ ایران کے دربار میں پہنچا تو شاہ ایران نے اپنے ترجمان سے کہا کہ ان لوگوں سے پوچھو کہ یہ کیوں آئے ہیں اور انہوں نے ہمارے ملک میں کیوں فساد برپا کر رکھا ہے۔جب اس نے یہ سوال کیا تو وفد کے رئیس حضرت نعمان بن مقرن کھڑے ہوئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ ﷺ کی بعثت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اسلام کو پھیلائیں اور دنیا کے تمام لوگوں کو دین حق میں شامل ہونے کی دعوت دیں۔اس حکم کے مطابق ہم آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے ہیں اور آپ کو اسلام میں شمولیت کی دعوت دیتے ہیں۔يَزْدَجَرُ داس جواب سے بہت برہم ہوا اور کہنے لگا کہ تم ایک وحشی اور مردار خور قوم ہو۔تمہیں اگر بھوک اور افلاس نے اس حملہ کے لئے مجبور کیا ہے تو میں تم سب کو اس قدر کھانے پینے کا سامان