اصحابِ بدرؓ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 594

اصحابِ بدرؓ (جلد سوم) — Page 83

صحاب بدر جلد 3 83 حضرت عمر بن خطاب صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد کے خواہاں ہیں۔اے اللہ ! ہمیں معاف فرما ! ہم پر رحم کر اور ہم سے راضی ہو جا۔اس کے بعد آپ واپس لوٹے۔ابھی گھر نہیں پہنچ پائے تھے کہ میدان میں بارش کی وجہ سے تالاب بن گیا۔151 ایک روایت کے مطابق حضرت عمرؓ نے دعا کرتے ہوئے عرض کیا کہ : اے اللہ ! تیرے نبی صلی ایام کے زمانے میں جب ہم پر خشک سالی ہوتی تو ہم تیرے نبی کے واسطے بارش کی دعا کیا کرتے تھے تو تو ہم پر بارش برساتا تھا۔آج ہم تجھے تیرے نبی صلی علیکم کے چا کا واسطہ دے کر دعا کر رہے ہیں۔پس تو ہماری یہ قحط سالی ختم کر دے اور ہم پر بارش نازل فرما۔چنانچہ لوگ ابھی اپنی جگہوں سے ہٹے نہ تھے کہ بارش برسنی شروع ہو گئی۔152 مسجد نبوی میں چٹائیاں بچھانے کا سلسلہ کب شروع ہوا؟ پہلے لوگ اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور فرش پر یا چی جگہ پہ نماز پڑھتے تھے۔ماتھے پہ مٹی لگ جایا کرتی تھی۔اس کے بعد پھر چٹائیوں کا رواج ہوا۔اس بارے میں عبد اللہ بن ابراہیم سے روایت ہے کہ سب سے پہلے مسجد نبوی میں جس نے چٹائی بچھائی وہ حضرت عمر بن خطاب تھے۔پہلے لوگ جب اپنا سر سجدے سے اٹھاتے تو اپنے ہاتھ جھاڑا کرتے تھے۔اس پر آپ نے چٹائیاں بچھانے کا حکم دیا جو عقیق سے لائی گئیں اور مسجد نبوی میں بچھائی گئیں۔عقیق بھی ایک وادی کا نام ہے جو مدینہ کے جنوب مغرب سے شروع ہو کر شمال مغرب تک تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر تک پھیلی ہوئی وادی ہے۔کہتے ہیں بہت بڑی وادی ہے۔3 مسجد نبوی میں توسیع 153 حضرت عمرؓ کے زمانے میں سترہ ہجری میں مسجد نبوی کی توسیع بھی ہوئی تھی۔حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علم کے دور میں مسجد کچی اینٹوں سے بنی ہوئی تھی جس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے بنی ہوئی تھی اور ستون کھجور کے تنوں کے تھے۔حضرت ابو بکر صدیق نے اس کو اسی حال میں رہنے دیا اور اس میں کوئی توسیع یا تبدیلی نہ کی۔حضرت عمر نے اس کی تعمیر نو اور توسیع کروائی مگر اس کی ہیئت اور طرز تعمیر میں کوئی تبدیلی نہ کرائی۔انہوں نے بھی اسے اسی طرح کے طرز تعمیر سے بنوایا۔چھت پہلے کی طرح کھجور کے پتوں کی ہی رہی۔انہوں نے صرف ستون لکڑی کے ڈلوادیے۔حضرت عمر نے سترہ ہجری میں مسجد کی تعمیر کو اپنی زیر نگرانی مکمل کروایا۔اس توسیع کے بعد مسجد کارقبہ سو ضرب سو (100X100) ذرع یعنی تقریباً پچاس ضرب پچاس (50X50) میٹر سے بڑھ کر ایک سو چالیس ضرب ایک سو بیس (140X120) ذرع تقریباً ستر ضرب ساٹھ (70X60) میٹر ہو گیا۔اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابو بکر کے دور میں بھی مسجد نبوی وہی رہی جو کہ رسول اللہ صلی الیم کے عہد میں تھی تاہم حضرت عمر کی تعمیر نو کے ساتھ اس میں کافی توسیع ہو گئی تھی۔