اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 77

ناب بدر جلد 2 77 حضرت ابو بکر صدیق پکارتے رہے۔اللَّهُمَّ الْجِزْ لِي مَا وَعَدَتَنِي اللَّهُمَّ اِتِ مَا وَعَدَتَنِي اللَّهُمَّ إِنْ تُهْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ یعنی اے اللہ ! جو تو نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما۔اے اللہ ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے وہ مجھے عطا فرما۔اے اللہ ! اگر تو نے مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک کر دیا تو زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔قبلے کی طرف منہ کیے دونوں ہاتھ پھیلائے آپ مسلسل اپنے رب کو بلند آواز سے پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گئی۔حضرت ابو بکر آپ کے پاس آئے اور آپ کی چادر اٹھائی اور آپ کے کندھوں پر ڈال دی۔پھر آپ رسول اللہ صلی علی کم کو پیچھے سے چمٹ گئے اور عرض کیا، اے اللہ کے نبی ؟ آپ کی اپنے رب کے حضور الحاح سے بھری ہوئی دعا آپ کے لیے کافی ہے۔وہ آپ سے کیے گئے وعدے ضرور پورے فرمائے گا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمُ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُسِدُّكُمْ بِالْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُردِ فِيْنَ (انفال: 10) یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے اس نے تمہاری التجا کو قبول کر لیا اس وعدے کے ساتھ کہ میں ضرور ایک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا۔پس اللہ نے ملائکہ کے ساتھ آپ کی مدد فرمائی۔219 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بدر کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ تفصیل اس طرح بیان فرمائی ہے۔لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیم نے صحابہ سے مخاطب ہو کر یہ بھی فرمایا کہ لشکر کفار میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے دل کی خوشی سے اس مہم میں شامل نہیں ہوئے بلکہ رؤساء قریش کے دباؤ کی وجہ سے شامل ہو گئے ہیں ورنہ وہ دل میں ہمارے مخالف نہیں۔اسی طرح بعض ایسے لوگ بھی اس لشکر میں شامل ہیں جنہوں نے مکہ میں ہماری مصیبت کے وقت میں ہم سے شریفانہ سلوک کیا تھا اور ہمارا فرض ہے کہ ان کے احسان کا بدلہ اتاریں۔پس اگر کسی ایسے شخص پر کوئی مسلمان غلبہ پائے تو اسے کسی قسم کی پر تکلیف نہ پہنچائے اور آپ نے خصوصیت کے ساتھ قسم اول میں عباس بن عبد المطلب اور قسم ثانی میں أبو البختری کا نام لیا اور ان کے قتل سے منع فرمایا مگر حالات نے کچھ ایسی ناگریز صورت اختیار کی کہ ابوالبختري قتل سے بیچ نہ سکا گوا سے مرنے سے قبل اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ آنحضرت علی تمیم نے اس کے قتل سے منع فرمایا ہے۔“ صحابہ سے یہ فرمانے کے بعد۔۔آپ سائبان میں جاکر پھر دعا میں مشغول ہو گئے۔حضرت ابو بکر بھی ساتھ تھے اور سائبان کے ارد گرد انصار کی ایک جماعت سعد بن معاذ کی زیر کمان پہرہ پر متعین تھی۔تھوڑی دیر کے بعد میدان میں سے ایک شور بلند ہوا اور معلوم ہوا کہ قریش کے لشکر نے عام حملہ کر دیا ہے۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رفت کی حالت میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دعائیں کر رہے تھے اور نہایت اضطراب کی حالت میں فرماتے تھے کہ اللهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ عَهْدَكَ وَوَعْدَكَ اللهُمَّ ان تُبْلِكَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ لَا تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ۔اے میرے خدا! اپنے وعدوں کو پورا کر۔اے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔اور اس وقت آپ اس قدر کرب