اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 61
اصحاب بدر جلد 2 61 حضرت ابو بکر صدیق محمد کا قافلہ نہیں ہو سکتا بلکہ جن لوگوں کا تم ذکر کر رہے ہو وہ تو ابھی ہمارے سامنے سے گزر کر گئے ہیں۔وہ بنو فلاں ہیں جو اپنی گمشدہ اونٹنی کی تلاش میں جارہے تھے۔سراقہ کہتے ہیں کہ میں کچھ دیر اُس مجلس میں رہا تا کہ کسی کو شک نہ گزرے اور پھر اپنی ایک خادمہ کو کہا کہ وہ میری فلاں تیز رفتار گھوڑی کو لے کر گھر کے پیچھے فلاں جگہ پر کھڑی ہو اور میرا انتظار کرے اور کچھ دیر کے بعد وہ خود وہاں پہنچ گیا اور بیان کرتے ہیں کہ میں نے فال نکالی لیکن اس سفر کے خلاف نکلی لیکن میں نے پروا نہیں کی اور گھوڑی کو ایڑھ لگا کر ہوا ہو گیا اور تیزی سے اس قافلے کا پیچھا کرنے لگا جو میں سمجھتا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ وسلم کا ہی قافلہ ہے۔سراقہ کہتے ہیں کہ منزل پر منزلیں مارتے ہوئے میں جلد ہی اس قافلے کے قریب پہنچ گیا اور ابھی کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ میری گھوڑی نے خلاف معمول ٹھو کر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔پھر میں اٹھ کھڑا ہوا اور میں نے فال نکالی اور فال پھر میرے ارادے کے خلاف نکلی مگر میں چاہتا تھا کہ محمد صلی علیہ ہم کو واپس لے کر جاؤں اور سو اونٹنیوں کا انعام حاصل کروں۔پھر میں اٹھا اور گھوڑی پر سوار ہوا اور اب میں اتنا قریب ہو چکا تھا کہ نہ صرف میں یہ پہچان چکا تھا کہ یہ محمد اور ابو بکر نہیں بلکہ مجھے محمد صلی ال نیم کے کچھ پڑھنے کی آواز بھی آرہی تھی کہ اتنے میں میری گھوڑی نے بری طرح ٹھو کر کھائی اور اس کی ٹانگیں ریت میں دھنس گئیں اور میں اس سے گر پڑا۔پھر میں نے گھوڑی کو ڈانٹا اور اٹھ کھڑا ہوا یعنی گھوڑی کو بُرا بھلا کہا اور اٹھ کھڑا ہوا اور گھوڑی اپنی ٹانگیں زمین سے نکال نہ سکتی تھی۔آخر جب وہ سیدھی کھڑی ہوئی تو اس کی دونوں ٹانگوں سے گر داٹھ کر فضا میں دھوئیں کی طرح پھیل گئی۔اتنی دھنسی ہوئی تھی کہ جب مٹی سے یاریت سے ٹانگیں باہر نکالیں تو گر داڑی۔کہتے ہیں اب میں نے دوبارہ تیروں سے فال نکالی تو وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔میں نے وہیں سے امان کی آواز لگائی اور کہا کہ میری طرف سے آپ لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔اس پر رسول اللہ صلی علیہ کم نے حضرت ابو بکر سے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ کیا چاہتا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں سراقہ ہوں اور آپ لوگوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔اس پر وہ رک گئے۔سراقہ بتانے لگا کہ مکہ والوں نے ان کے زندہ یا مردہ پکڑے جانے پر سو اونٹ انعام مقرر کیا ہے اور میں اسی لالچ میں آپ کا تعاقب کرتے ہوئے آیا ہوں لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہوا ہے اس سے میں اس یقین پر قائم ہوں کہ میرا تعاقب درست نہیں ہے۔اس نے نبی اکرم صلی یم کی خدمت میں زادِ راہ و غیرہ کی پیشکش بھی کی لیکن آپ صلی اللہ تم نے قبول نہ فرمایا۔بس یہ کہا کہ ہمارے بارے میں کسی کو نہ بتانا۔اس نے یہ وعدہ کیا اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ ایک دن بادشاہت حاصل کر لیں گے۔مجھے کوئی عہد و پیمان لکھ دیں کہ اس وقت جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو مجھ سے عزت و احترام سے پیش آیا جائے۔بعض روایات کے مطابق اس نے امان کی تحریر کے لیے درخواست کی تھی۔چنانچہ نبی اکرم صلی علی ایم کے ارشاد پر اس کو وہ تحریر حضرت ابو بکر نے اور ایک روایت کے مطابق عامر بن فہیرہ نے لکھ کر دی اور وہ یہ تحریر لے کر واپس آگیا۔0 رض 170