اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 49 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 49

حاب بدر جلد 2 49 حضرت ابو بکر صدیق ہے ہر اُس بھلائی میں جو میں کر سکا۔نہ گناہ سے بچنے کا کوئی حیلہ ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی کوئی طاقت ہے مگر تیرے ہی ذریعہ۔137 اے مکہ تو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اگر۔۔۔خانہ کعبہ کے پیچھے سے گزرتے ہوئے نبی اکرم صلی للی یکم نے مکہ کی طرف اپنارخ مبارک فرمایا اور اس بستی سے یوں مخاطب ہوئے کہ : بخدا اے مکہ اتو اللہ کی زمین میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور تو اللہ کی زمین میں سے اللہ کو بھی سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر تیرے باشندے مجھے زبر دستی نہ نکالتے تو میں کبھی بھی نہ نکلتا 138 غار ثور اور حضرت ابو بکر کی عاشقانہ تڑپ کا اظہار امام بیہقی نے لکھا ہے کہ غارِ ثور کے سفر کے دوران حضرت ابو بکر کبھی آنحضرت صلی الم کے آگے چلتے کبھی پیچھے اور کبھی آپ کے دائیں ہو جاتے اور کبھی بائیں۔نبی اکرم صلی لی ہم نے پوچھا تو عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ ! مجھے خیال آتا ہے کوئی سامنے سے نہ آرہا ہو تو میں آپ کے آگے ہو جاتا ہوں اور جب اندیشہ ہو تا ہے کوئی پیچھے سے حملہ نہ کر دے تو آپ کے پیچھے ہو جاتا ہوں اور کبھی دائیں اور کبھی بائیں کہ آپ ہر طرف سے محفوظ و مامون رہیں۔ایک روایت کے مطابق غار ثور تک پہنچتے پہنچتے اس پہاڑی سفر میں نبی اکرم صلی الی ایم کے قدم مبارک زخمی بھی ہو گئے۔140 139 اور ایک روایت کے مطابق راستے میں ایک پتھر سے ٹھوکر لگنے سے پاؤں مبارک زخمی ہو گیا تھا۔141 جب غارِ ثور تک پہنچے تو حضرت ابو بکڑ نے رسول اللہ صلی علیم سے عرض کیا کہ آپ ابھی یہاں ٹھہریں پہلے مجھے اندر جانے دیں تاکہ میں اچھی طرح غار کو صاف کر لوں اور کوئی خطرے کی چیز ہو تو میرا اس سے سامنا ہو۔چنانچہ وہ اندر گئے اور غار کو صاف کیا، جو بھی سوراخ اور بل وغیرہ تھے ان کو اپنے کپڑے سے بند کیا۔پھر رسول اللہ صلی للی کم کو اندر آنے کی دعوت دی۔کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی علیکم حضرت ابو بکر کی ران پر سر رکھ کر لیٹ گئے اور ایک سوراخ جس کے لیے کپڑا نہ تھا یا شاید اس وقت نظر نہ آیا ہو اس پر حضرت ابو بکڑ نے اپنا پاؤں رکھ دیا۔روایت میں ہے کہ اسی سوراخ سے کوئی بچھو یا سانپ وغیرہ ڈستارہا لیکن حضرت ابو بکر اس ڈر سے کہ اگر کوئی حرکت کی تو نبی اکرم صلی علیہم کے آرام میں خلل واقع ہو گا جنبش نہ فرماتے۔یہاں تک کہ نبی اکرم صلی علیل ہم نے جب آنکھ کھولی تو حضرت ابو بکر کے چہرے کی بدلی ہوئی رنگت کو دیکھ کر پوچھا کہ کیا ماجرا ہے تو انہوں نے ساری بات بتائی۔آنحضرت صلی ا یکم نے اپنا لعاب مبارک وہاں