اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 458

ب بدر جلد 2 458 حضرت ابو بکر صدیق مصائب سے آپ دوچار ہوئے ان کا صلہ آپ پر ظاہر فرمائے اور اللہ محسنوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔لہذا آپ کے رب نے آپ کو خلیفہ بنا دیا اور آپ کے لئے آپ کے ذکر کو بلند کیا اور آپ کی دلجوئی فرمائی اور اپنے فضل ور حم سے عزت بخشی اور آپ کو امیر المومنین بنادیا۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں 1050❝ پھر حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: ” یہ عقیدہ ضروری ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاروق عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی تضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔سب کے سب واقعی طور پر دین میں امین تھے۔ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے آدم ثانی ہیں اور ایسا ہی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما اگر دین میں بچے امین نہ ہوتے تو آج ہمارے لئے مشکل تھا جو قرآن شریف کی کسی ایک آیت کو بھی منجانب اللہ بتا سکتے۔“1051 پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں: ”حضرت ابو بکر اسلام کے آدم ثانی ہیں اُس زمانہ میں بھی مسیلمہ نے اباحتی رنگ میں لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔ایسے وقت میں حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ کس قدر مشکلات پید اہوئی ہوں گی۔اگر وہ قوی دل نہ ہوتا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ اس کے ایمان میں نہ ہوتا تو بہت ہی مشکل پڑتی اور گھبر اجاتا لیکن صدیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم سایہ تھا۔ہم سایہ تھا یعنی جس طرح آپ کا سایہ تھا اسی طرح وہ تھے۔” آپ کے اخلاق کا اثر اس پر پڑا ہوا تھا اور دل نور یقین سے بھرا ہوا تھا۔اس لیے وہ شجاعت اور استقلال دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ان کی زندگی اسلام کی زندگی تھی۔یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر کسی لمبی بحث کی حاجت ہی نہیں۔اس زمانہ کے حالات پڑھ لو اور پھر جو اسلام کی خدمت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کی ہے اس کا اندازہ کر لو۔میں سچ کہتا ہوں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اس اسلام کے لئے آدم ثانی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلعم کے بعد ابو بکر گیا وجو د نہ ہو تا تو اسلام بھی نہ ہو تا۔ابو بکر صدیق کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔اپنی قوتِ ایمانی سے کل باغیوں کو سزادی اور امن کو قائم کر دیا۔اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ میں بچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔یہ پیشگوئی حضرت صدیق کی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔پس یہ صدیق کی تعریف ہے کہ اس میں صدق اس مرتبہ اور کمال کا ہونا چاہئے۔نظائر سے مسائل بہت جلد حل ہو جاتے ہیں۔1052 پھر آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ہزاروں آدمی مرتد ہو گئے حالانکہ آپ کے زمانہ میں تکمیل شریعت ہو چکی تھی۔یہا تک اس ارتداد کی نوبت پہنچی کہ صرف دو