اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 426 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 426

حاب بدر جلد 2 426 حضرت ابو بکر صدیق مہمات میں مجھے شامل ہونے کا موقع ملا اور ان میں کبھی تو ہماری کمان حضرت ابو بکر کے پاس ہوتی تھی اور کبھی حضرت اسامہ بن زید کے پاس۔996 اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب سارا عرب ہی گویا مرتد ہو گیا ان حالات میں جس جرات و شجاعت کا عملی مظاہرہ حضرت ابو بکڑ نے فرمایاوہ اپنی مثال آپ ہے۔اس کا تفصیلی ذکر پہلے ہو چکا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ایک دفعہ کفار نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے گلے میں پڑکا ڈال کر زور سے کھینچنا شروع کیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ دوڑے ہوئے آئے اور آپ نے ان کفار کو ہٹایا اور فرمایا اے لوگو! تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا کہ تم ایک شخص کو محض اس لیے مارتے پیٹتے ہو کہ وہ کہتا ہے اللہ میر ارب ہے۔وہ تم سے کوئی جائیداد تو نہیں مانگتا پھر تم اُسے کیوں مارتے ہو ؟ صحابہ کہتے ہیں ہم اپنے زمانہ میں سب سے بہادر حضرت ابو بکر کو سمجھتے تھے کیونکہ دشمن جانتا تھا کہ اگر میں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مار لیا تو اسلام ختم ہو جائے گا اور ہم نے دیکھا کہ ہمیشہ ابو بکر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے ہوتے تھے تا کہ جو کوئی آپ پر حملہ کرے اس کے سامنے اپنا سینہ کر دیں۔چنانچہ جب بدر کے موقع پر کفار سے مڈھ بھیڑ ہوئی تو صحابہ نے آپس میں مشورہ کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک عرشہ تیار کر دیا اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ اس عرشہ پر تشریف رکھیں اور ہماری کامیابی کے لیے دعا کریں دشمنوں سے ہم خود لڑیں گے۔پھر انہوں نے کہا یار سول اللہ ! ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ گو ہمارے اندر بھی اخلاص پایا جاتا ہے مگر وہ لوگ جو مدینہ میں بیٹھے ہیں وہ ہم سے بھی زیادہ مخلص اور ایماندار ہیں۔انہیں پتا نہیں تھا کہ کفار سے جنگ ہونے والی ہے ورنہ وہ لوگ بھی اس لڑائی میں ضرور شامل ہوتے۔جنگ بدر کا پہلے باقاعدہ پتہ نہیں تھا تو وہ بھی شامل ہو جاتے۔یار سول اللہ ! اگر خدانخواستہ اس جنگ میں ہمیں شکست ہو تو ہم نے ایک تیز رفتار اونٹنی آپ کے پاس باندھ دی ہے اور ابو بکر کو آپ کے پاس کھڑا کر دیا ہے۔ان سے زیادہ بہادر اور دلیر آدمی ہمیں اپنے اندر اور کوئی نظر نہیں آیا۔یار سول اللہ ! آپ فوراً ابو بکر کے ساتھ اس اونٹنی پر بیٹھ کر مدینہ تشریف لے جائیں اور وہاں سے ایک نیالشکر کفار کے مقابلہ کے لیے لے آئیں جو ہم سے بھی زیادہ مخلص اور وفادار ہو گا۔“ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : اس واقعہ سے اندازہ لگالو کہ ابو بکر کتنی قربانی کرنے والا انسان تھا۔997 پھر ایک موقع پر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ”ایک دفعہ بعض لوگوں نے صحابہ سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سب سے زیادہ دلیر اور بہادر کون شخص تھا۔جس طرح آج کل