اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 427 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 427

427 حضرت ابو بکر صدیق تاب بدر جلد 2 شخص کی شیعہ سنی کا سوال ہے اسی طرح اس زمانہ میں بھی جس کسی کے ساتھ تعلق ہو تا تھا لوگ اس کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔جب صحابہ سے یہ سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں سے سب سے بہادر وہ شخص سمجھا جاتا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو تا تھا۔یہ نکتہ ایک جنگی آدمی ہی سمجھ سکتا ہے دوسرا آدمی نہیں سمجھ سکتا۔جس کو جنگ کا صحیح پتہ ہو اور جنگ کے خطرات کا پتہ ہو اسی کو اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ بہادری کیسی ہے جہاں سب سے زیادہ خطرہ ہو وہاں کھڑے ہو نا۔تو فرماتے ہیں کہ ”بات یہ ہے کہ جو شخص ملک اور قوم کی روح رواں ہو دشمن چاہتا ہے کہ اسے مار ڈالے تا کہ اس کی موت کے ساتھ تمام جھگڑا ختم ہو جائے۔اس لئے جس طرف بھی ایسا آدمی کھڑا ہو گا دشمن اس طرف پورے زور کے ساتھ حملہ کرے گا“ جو مرکز ہو کسی چیز کا اسی کی طرف دشمن زیادہ حملہ کرتا ہے اور ایسی جگہ پر وہی کھڑا ہو سکتا ہے۔“ یعنی اس کی حفاظت کے لیے، اس مرکز کی حفاظت کے لیے وہی شخص کھڑا ہو سکتا ہے جو سب سے زیادہ بہادر ہو۔پھر صحابہ نے کہا کہ آپ کے پاس اکثر حضرت ابو بکر کھڑے ہوا کرتے تھے اور ہمارے نزدیک وہی سب سے زیادہ بہادر تھے 998 پھر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ بنی اسرائیل کی دوسری آیت کی تفسیر بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ اسلامی بعبدہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ چلانے والا کوئی دوسرا تھا۔اور اس میں چلنے والے کا اپنا اختیار نہ تھا۔ہجرت کا واقعہ بھی اسی طرح ہوا کہ آپ رات ہی کو نکلے۔اور یہ نکلنا اپنی مرضی سے نہ تھا بلکہ اس وقت مجبور ہو کر آپ نکلے جبکہ کفار نے آپ کے قتل کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا۔پس اس سفر میں آپکی مرضی کا دخل نہ تھا بلکہ خدا تعالیٰ کی مشیت نے آپ کو مجبور کیا تھا یعنی آپ کو چلانے والا، آپ کو باہر نکالنے والا، آپ کو ہجرت کی طرف لے جانے کے لیے کہنے والا اللہ تعالیٰ تھا اور اس کی مشیت کی وجہ سے آپ مجبور ہو کر نکلے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ” پھر جس طرح رویا میں جبریل بیت المقدس کے سفر میں آپ کے ساتھ تھے ہجرت میں ابو بکر آپ کے ساتھ تھے جو گویا اسی طرح آپ کے تابع تھے جس طرح جبریل خدا تعالیٰ کے تابع کام کرتا ہے۔اور جبریل کے معنے خدا تعالیٰ کے پہلو ان کے ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر بھی اللہ تعالیٰ کے خاص بندے تھے اور دین کے لئے ایک نڈر پہلوان کی حیثیت رکھتے تھے۔999 پھر حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ایک جگہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام پر ایمان کے ہوتے ہوئے انسانی قلب میں مایوسی پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔“ اللہ تعالیٰ کے اوپر ایمان کامل ہو تو دل میں کبھی مایوسی پیدا نہیں ہو سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حالت مثلاً غار ثور میں ہوئی اس کے بعد کون سی امید کی حالت باقی رہ جاتی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی تاریکی میں اپنے گھر کو چھوڑ کر غارِ ثور میں جا چھپے۔ایک ایسی غار میں جس کا منہ بہت بڑا کھلا تھا اور ہر انسان آسانی سے اس کے اندر جھانک سکتا تھا اور گود سکتا تھا۔صرف ایک ساتھی آپ کے ہمراہ تھا اور پھر دونوں بغیر ہتھیاروں