اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 416 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 416

اصحاب بدر جلد 2 416 حضرت ابو بکر صدیق آرائیاں کرتارہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوں تو میں عرب کا بادشاہ بنوں گا۔لیکن اب اس نے دیکھا کہ ابو بکر کی نیکی اور تقویٰ اور بڑائی مسلمانوں میں تسلیم کی جاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے تشریف نہیں لاتے تو ابو بکر آپ کی جگہ نماز پڑھاتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی فتویٰ پوچھنے کا موقع نہیں ملتا تو مسلمان ابو بکر سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔یہ دیکھ کر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو جو آئندہ کی بادشاہت ملنے کی امید لگائے بیٹھا تھا سخت فکر لگا اور اس نے چاہا کہ اس کا ازالہ کرے۔چنانچہ اس امر کا ازالہ کرنے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہرت اور آپ کی عظمت کو مسلمانوں کی نگاہ سے گرانے کے لیے اس نے حضرت عائشہ پر الزام لگا دیا تا حضرت عائشہ پر الزام لگنے کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے نفرت پیدا ہو اور حضرت عائشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نفرت کا یہ نتیجہ نکلے کہ حضرت ابو بکر کو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی نگاہوں میں جو اعزاز حاصل ہے وہ کم ہو جائے اور ان کے آئندہ خلیفہ بنے کا امکان نہ رہے چنانچہ اسی امر کا اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں ذکر فرمایا ہے ، فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنكُمْ کہ وہ لوگ جنہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر اتہام لگایا ہے وہ تم لوگوں میں سے ہی مسلمان کہلانے والا ایک جتھا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّا لَّكُمْ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لکھ۔تم یہ خیال نہ کرو کہ یہ الزام کوئی بُرا نتیجہ پیدا کرے گا بلکہ یہ الزام بھی تمہاری بہتری اور ترقی کا موجب ہو جائے گا۔چنانچہ آپؐ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے او آب ہم خلافت کے متعلق بھی اصول بیان کر دیتے ہیں اور تم کو یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ یہ منافق زور مار کر دیکھ لیں۔یہ ناکام رہیں گے اور ہم خلافت کو قائم کر کے چھوڑیں گے کیونکہ خلافت نبوت کا ایک جزو ہے اور انہی نور کے محفوظ رکھنے 973 ย کا ایک ذریعہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ”اب دیکھو ! سورہ نور کے شروع سے لے کر اس کے آخر تک کس طرح ایک ہی مضمون بیان کیا گیا ہے۔پہلے اس الزام کا ذکر کیا جو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر لگایا گیا تھا اور چونکہ حضرت عائشہ پر الزام لگانے کی اصل غرض یہ تھی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذلیل کیا جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے جو تعلقات ہیں وہ بگڑ جائیں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی نگاہ میں بھی ان کی عزت کم ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد وہ خلیفہ نہ ہو سکیں۔کیونکہ عبد اللہ بن ابی بن سلول یہ بھانپ گیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں کی نگاہ اگر کسی پر اٹھنی ہے تو وہ ابو بکر ہی ہے اور اگر ابو بکر کے ذریعہ سے خلافت قائم ہو گئی تو عبد اللہ بن ابی بن سلول کی بادشاہی کے خواب کبھی پورے نہ ہوں گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس الزام کے ذکر کے معابعد خلافت کا ذکر کیا اور فرمایا کہ خلافت بادشاہت نہیں ہے۔وہ تو نور الہی کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اس کا قیام اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اس کا ضائع ہونا