اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 411 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 411

اصحاب بدر جلد 2 411 حضرت ابو بکر صدیق کہا گیا تھا۔یہ مسند کی روایت ہے۔965 آپ کی شفقت اولاد کے بارے میں لکھنے والے لکھتے ہیں ، ایک مصنف نے لکھا ہے کہ: حضرت ابو بکر ھو اپنی اولاد سے بہت محبت تھی۔اپنے قول و عمل سے وہ اکثر اس بات کا اظہار بھی کرتے رہتے تھے۔بڑے صاحبزادے حضرت عبد الرحمن الگ مکان میں رہتے تھے لیکن ان کے گھر کا خرچ حضرت ابو بکر نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔حضرت ابو بکر کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء کی شادی حضرت زبیر بن عوام سے ہوئی تھی۔وہ شروع شروع میں بہت تنگدست تھے۔گھر میں کوئی خادم یا خادمہ رکھنے کی مقدرت نہ تھی اس لیے حضرت اسمان کو بہت کام کرنا پڑتا۔وہ آٹا گوندھتی تھیں۔کھانا پکاتی تھیں۔پانی بھرتی تھیں۔ڈول سیتی تھیں اور کافی فاصلے سے کھجور کی گٹھلیاں سر پر لاد کر لاتی تھیں یہاں تک کہ گھوڑے کو چارہ بھی کھلاتی تھیں۔حضرت ابو بکر صدیق موجب ان حالات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک خادم بھیجاجو گھوڑے کو چارہ کھلاتا اور اس کی دیکھ بھال کر تا تھا۔حضرت اسما کہتی ہیں کہ خادم بھیج کر گویا ابا جان نے مجھے آزاد کر دیا۔ایک اور واقعہ لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابو بکر کو اپنی بیوی عاتکہ سے محبت تھی۔اس کی وجہ سے انہوں نے جہاد پر جانا چھوڑ دیا تھا۔حضرت ابو بکر یہ برداشت نہ کر سکتے تھے۔انہوں نے حضرت عبد اللہ کو حکم دیا کہ تم نے بیوی کی وجہ سے جہاد پر جانا چھوڑ دیا ہے تو اسے طلاق دے دو۔تو انہوں نے اس حکم کی تعمیل تو کر دی لیکن عاتکہ کے فراق میں بڑے پر درد اشعار کہے۔حضرت ابو بکر کے کانوں تک یہ اشعار پہنچے تو ان کا دل پسیج گیا اور انہوں نے حضرت عبد اللہ کو رجوع کرنے کی اجازت دے دی۔967 966 حضرت بر او نے بیان کیا کہ میں حضرت ابو بکر کے ساتھ ان کے گھر والوں کے پاس اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ ان کی بیٹی حضرت عائشہ لیٹی ہوئی ہیں۔انہیں بخار ہو گیا تھا۔میں نے دیکھا کہ انہوں نے یعنی حضرت ابو بکر نے حضرت عائشہؓ کے رخسار پر بوسہ دیا اور ان کی طبیعت پوچھی کہ اے میری بیٹی ! تم کیسی ہو ؟968 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت ابو بکر صدیق کا جو مر تبہ تھا اس بارے میں پہلے بھی بیان ہو چکا ہے۔مزید بھی بیان ہوا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنا جانشین نامزد کرنا چاہتے تھے بلکہ یہ اشارہ دیا کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابو بکر ہی کو آپ کے بعد خلیفہ اور جانشین بنائے گا۔چنانچہ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری میں مجھ سے فرمایا کہ ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تا کہ میں ایک تحریر لکھ دوں۔مجھے ڈر ہے کہ کوئی خواہش کرنے والا خواہش کرے یا کوئی کہنے والا کہے کہ میں زیادہ حق دار ہوں لیکن اللہ اور مومن تو سوائے ابو بکر کے کسی اور کا انکار کریں گے۔969 یعنی کوئی اور اگر کہے تو اس کا انکار