اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 409 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 409

بدر جلد 2 409 960❝ حضرت ابو بکر صدیق آپ سے کہا کہ آپ اس طرح قرآن نہ پڑھا کریں۔مکہ کے لوگ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر نے فرمایا پھر اپنی پناہ تم واپس لے لو میں تو اس سے باز نہیں آسکتا۔چنانچہ اس رئیس نے اپنی پناہ واپس لے لی۔یہ آپ کے تقویٰ اور طہارت کا کتنا ز بر دست ثبوت ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ لوگ شدید دشمن تھے اور آپ کو گالیاں بھی دیا کرتے تھے لیکن ابو بکر کی پاکیزگی کے وہ اتنے قائل تھے کہ اس رئیس نے کہا آپ کے نکل جانے سے شہر برباد ہو جائے گا۔امامت نماز کے بارے میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدم موجودگی میں جن چند احباب کو مسجد نبوی میں نماز پڑھانے کی سعادت نصیب ہوئی ان میں حضرت ابو بکر بھی ہیں اور حضرت ابو بکر کی ایک خصوصی سعادت یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں تو بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق نمازیں پڑھانے کی سعادت میسر آئی۔اس بارے میں متفرق روایات ہیں۔حضرت عائشہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاوہ لوگ جن میں ابو بکر ہوں ان کے لیے مناسب نہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اور ان کی امامت کروائے۔اسود بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس تھے کہ اتنے میں ہم نے نماز پر باقاعدگی اور اس کی عظمت کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بیماری سے بیمار ہوئے جس میں آپ فوت ہو گئے تھے تو نماز کا وقت ہوا اور اذان دی گئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو آپ سے عرض کیا گیا کہ ابو بکر رقیق القلب ہیں۔جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر وہی عرض کیا گیا کہ رقیق اقب میں تو آپ نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا اور کہ تم یوسف والیاں ہوں۔یعنی اس طرح کی باتیں کر رہی ہو۔ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔961 تب حضرت ابو بکر نماز پڑھانے کے لیے نکلے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طبیعت میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ کو دو آدمیوں کے در میان سہارا دیا جارہا تھا۔وہ کہتی ہیں مجھے یہ ایسا ہی یاد ہے گویا کہ میں اب بھی دیکھ رہی ہوں کہ آپ کے پاؤں بیماری کی وجہ سے زمین پر لکیریں ڈال رہے تھے یعنی صحیح طرح چل نہیں سکتے تھے۔پاؤں اٹھا نہیں سکتے تھے تو پاؤں زمین میں گھسٹ رہے تھے۔حضرت ابو بکر نے جب آپ کو اس طرح آتے ہوئے دیکھا تو چاہا کہ پیچھے ہٹ جائیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ پر ہی رہیں۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا گیا یہاں تک کہ آپ حضرت ابو بکر کے پہلو میں بیٹھ گئے۔اعمش سے کہا گیا اور کیا نبی نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابو بکر آپ کی نماز کی اقتدا میں پڑھتے تھے اور لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کی اقتدا میں پڑھتے تھے تو انہوں نے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر کے بائیں طرف بیٹھے اور حضرت ابو بکر کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔2 962