اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 408

حاب بدر جلد 2 408 حضرت ابو بکر صدیق کو ابتداء میں ایمان لانے اور ابتداء میں قربانیوں کا موقع میسر آنے کی وجہ سے حاصل ہوا، حضرت عمر اس کی برابری نہ کر سکے۔یہی وجہ ہے ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر فما اختلاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جس وقت اسلام سے انکار کر رہے تھے اس وقت ابو بکر نے اسلام کو قبول کیا اور جس وقت تم اسلام کی مخالفت کر رہے تھے اس نے اسلام کی مدد کی اب تم اس کو کیوں دکھ دیتے ہو۔تو ان کے پہلے ایمان لانے اور قربانیوں کا اظہار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالانکہ تکلیفیں حضرت عمر نے بھی اٹھائیں اور قربانیاں انہوں نے بھی کی تھیں۔پس حضرت ابو بکر کو اس سبقت پر فخر حاصل تھا۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابو بکر یہ چاہتے ہوں گے کہ کاش ! فتح مکہ کے وقت ان کو ایمان لانے کا موقع ملتا بلکہ اگر دنیا کی بادشاہت کو بھی ان کے سامنے رکھ دیا جاتا تو حضرت ابو بکر اس کو نہایت حقیر بدلہ قرار دیتے اور منظور نہ کرتے بلکہ وہ اس مرتبہ کے معاوضہ میں دنیا کی بادشاہت کو پاؤں سے ٹھو کر مارنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کرتے۔پس یہ ان کی قربانیوں کا صلہ تھا اور اس طرح اللہ تعالٰی درجہ بہ درجہ صلہ دیتا ہے۔غلاموں کے آزاد کروانے کے بارے میں لکھا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ ابو بَكْرٍ سَيْدُنَا وَاعْتَقَ سَيْدَنَا يَعْنِى بِلَالًا - 8 ابو بکر ہمارے سردار ہیں اور انہوں نے ہمارے سردار کو آزاد کیا۔ان کی مراد حضرت بلال سے تھی۔حضرت ابو بکر صدیق نے آغاز اسلام میں اپنے مال سے سات غلاموں کو آزاد کروایا جنہیں اللہ کی وجہ سے تکلیف دی جاتی تھی۔ان غلاموں کے نام یہ ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ۔عامر بن فھیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔نَهْدِیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی بیٹی رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کی بیٹی بنی مؤمل کی ایک لونڈی اور اُم عُبَیس۔957" 958 959 مخالف بھی حضرت ابو بکر کی نیکی اور اخلاق فاضلہ کے قائل تھے چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ”ابو بکر جیسا انسان جس کا سارا مکہ ممنون احسان تھا۔وہ جو کچھ کماتے تھے غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کر دیتے تھے۔آپ ایک دفعہ مکہ کو چھوڑ کر جارہے تھے کہ ایک رئیس آپ سے راستہ میں ملا اور اس نے پوچھا ابو بکر تم کہاں جارہے ہو آپ نے فرمایا اس شہر میں اب میرے لئے امن نہیں ہے میں اب کہیں اور جارہا ہوں۔اس رئیس نے کہا تمہارے جیسانیک آدمی اگر شہر سے نکل گیا تو شہر برباد ہو جائے گا۔میں تمہیں پناہ دیتا ہوں تم شہر چھوڑ کر نہ جاؤ۔آپ اُس رئیس کی پناہ میں واپس آگئے۔آپ جب صبح کو اٹھتے اور قرآن پڑھتے تو عور تیں اور بچے دیوار کے ساتھ کان لگا لگا کر قرآن سنتے کیونکہ آپ کی آواز میں بڑی رفت، سوز اور درد تھا اور قرآن کریم چونکہ عربی میں تھا ہر عورت، مرد ، بچہ اس کے معنی سمجھتا تھا اور سننے والے اس سے متاثر ہوتے تھے۔جب یہ بات پھیلی تو مکہ میں شور پڑ گیا کہ اس طرح تو سب لوگ بے دین ہو جائیں گے۔آخر لوگ اُس رئیس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ تم نے اس کو پناہ میں کیوں لے رکھا ہے۔اس رئیس نے آکر