اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 397
اصحاب بدر جلد 2 397 حضرت ابو بکر صدیق تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں کو کنویں میں لٹکائے ہوئے تھے یعنی اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے تھے۔میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔پھر واپس مڑا اور دروازے پر بیٹھ گیا۔میں نے کہا آج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان بنوں گا۔اتنے میں حضرت ابو بکر آئے اور انہوں نے دروازے کو دھکیلا۔میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا ابو بکر۔میں نے کہا ٹھہر یے۔پھر میں نے جا کر کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابو بکر نہیں جو اجازت چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔میں آیا یہاں تک کہ میں نے حضرت ابو بکر سے کہا اندر آ جائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔حضرت ابو بکر اندر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے۔انہوں نے بھی اپنے پاؤں کنویں میں لڑکا دیے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔پھر میں واپس آیا اور بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی کو چھوڑ کر آیا تھا کہ وضو کر کے مجھ سے آملے۔میں نے دل میں کہا کہ اگر اللہ فلاں کے بارے میں بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے ، ان کی مراد اپنے بھائی سے تھی۔تو وہ اس کو لے آئے گا۔کیا دیکھا کہ کوئی انسان دروازے کو ہلا رہا ہے۔میں نے کہا یہ کون ہے ؟ اس نے کہا عمر بن خطاب۔میں نے کہا ٹھہر یے۔پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور میں نے کہا عمر بن خطاب ہیں۔وہ اجازت چاہتے ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔میں آیا۔میں نے کہا اندر آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے۔وہ اندر آئے اور منڈیر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف بیٹھ گئے اور اپنے پاؤں کنویں میں لٹکا دیے۔پھر میں لوٹ آیا اور بیٹھ گیا۔میں نے کہا اگر اللہ نے فلاں کی بہتری چاہی تو اس کو لے آئے گا۔دوبارہ اپنے بھائی کے بارے میں سوچا۔اتنے میں ایک آدمی آیا۔وہ دروازے کو ہلانے لگا۔میں نے کہا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا عثمان بن عفان۔میں نے کہا ٹھہریے۔میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو اجازت دو اور ان کو جنت کی بشارت دو۔اور حضرت عثمان کے بارے میں ساتھ یہ بھی فرمایا کہ باوجود اس ایک بڑی مصیبت کے جو انہیں پہنچے گی ان کو جنت کی بشارت دو۔میں ان کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا اندر آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی بشارت دی ہے باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو آپ کو پہنچے گی۔وہ اندر آئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک کنارہ بھر گیا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسری طرف بیٹھ گئے۔حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پر چڑھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان تھے تو وہ ملنے لگا۔آپ نے فرمایا احد! ٹھہر جا۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں بھی مارا کیونکہ تم پر اور کوئی نہیں صرف ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔136 935