اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 398
محاب بدر جلد 2 398 رض حضرت ابو بکر صدیق حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نو لوگوں کے بارے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں اور اگر دسویں کے بارے میں بھی یہی کہوں تو گنہ گار نہیں ہوں گا۔انہوں نے کہا کیسے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو وہ ملنے لگا۔پہلی روایت بخاری کی تھی یہ ترمذی کی ہے اور اس میں حرا کا ذکر ہے۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہرارہ اسے حرا! یقیناً تجھ پر ایک نبی یا صدیق یا شہید ہیں۔کسی نے پوچھا: وہ دس جنتی لوگ کون ہیں۔حضرت سعید بن زید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ ، زبیر ، سعد اور عبد الرحمن بن عوف ہیں اور کہا گیا کہ دسواں کون ہے تو سعید بن زید نے کہا وہ میں ہوں۔7 یہاں یہ بھی واضح ہو جائے کہ اس روایت میں ان دس عظیم المرتبت صحابہ کا ذکر ہے جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی تھی۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرب بھی تھے اور مشیر بھی تھے جن کو سیرت کی اصطلاح میں عشرہ مبشرہ کہتے ہیں یعنی دس وہ لوگ جنہیں جنت کی بشارت دی گئی تھی لیکن یہ مد نظر رہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دس کے بارے میں ہی جنت کی بشارت نہیں دی تھی بلکہ اس کے علاوہ بھی متعدد ایسے 937 صحابہ اور صحابیات ہیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی خوشخبری دی تھی۔چنانچہ ان دس کے علاوہ کم و بیش پچاس کے قریب صحابہ و صحابیات کے ناموں کا ذکر بھی ملتا ہے۔اس کے علاوہ جنگ بدر میں شامل ہونے والوں جو کہ تین سو تیرہ کے قریب تھے اور جنگ احد میں شامل ہونے والوں اور بیعت رضوان صلح حدیبیہ کے موقع پر شامل ہونے والوں کے متعلق بھی جنت کی خوشخبری دی گئی تھی۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے آج کون روزہ دار ہے ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون تم میں سے آج جنازے کے ساتھ گیا؟ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کیا کہ میں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا میں نے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کس نے آج کسی مریض کی عیادت کی ؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میں نے۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس آدمی میں یہ سب باتیں جمع ہو گئیں وہ جنت میں داخل ہو گیا۔938 یہ صحیح مسلم کا حوالہ ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جبریل میرے پاس آیا اور اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کاش! میں بھی آپ کے ساتھ ہوتا تاکہ میں بھی اسے دیکھتا تو آپ نے فرمایا: اے ابو بکر ! تم میری اُمت میں سے سب سے پہلے ہو جو جنت میں داخل ہو گے۔939