اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 387 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 387

حاب بدر جلد 2 387 906❝ حضرت ابو بکر صدیق 904 پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے۔وہ کہنے لگیں کہ مجھے معلوم ہے کہ جو بھی اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لیے بہتر ہے لیکن میں اس لیے روتی ہوں کہ اب وحی آسمان سے منقطع ہو گئی ہے۔حضرت انس کہتے ہیں کہ اُم ایمن نے ان دونوں کو بھی رُلا دیا۔وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔4 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا اور تم نے کہا تو جھوٹا ہے اور ابو بکر نے کہا سچا ہے اور انہوں نے اپنی جان ومال سے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔905 حضرت مصلح موعودؓ اس بات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ صرف ”حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ایسے تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک نے میرا انکار کیا مگر ابو بکر ایسا تھا جس میں میں نے کوئی نجی نہیں دیکھی۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش مکہ کے درمیان صلح کا معاہدہ ہو رہا تھا اور ابو جندل کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کی شرائط کے مطابق واپس کر دیا تو اس وقت صحابہ بہت جوش میں تھے۔اس کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ: مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور مذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگر رسول اللہ کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔آخر حضرت عمر سے نہ رہا گیا۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اور کانپتی ہوئی آواز میں فرمایا کیا آپ خدا کے برحق رسول نہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ضرور ہوں۔عمر نے کہا کہ کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپ نے فرمایا ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے۔عمرؓ نے کہا تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟ آپ نے حضرت عمر کی حالت کو دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا۔دیکھو عمر ! میں خدا کار سول ہوں اور میں خدا کے منشا کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میر امدد گار ہے۔مگر حضرت عمر کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بہ لحظہ بڑھ رہا تھا۔کہنے لگے کیا آپ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہو گا؟ عمر نے کہا کہ نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ نے فرمایا تو پھر انتظار کرو تم ان شا اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمر کی تسلی نہ ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمر وہاں سے ہٹ کر حضرت ابو بکر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں۔حضرت ابو بکر نے بھی اسی قسم کے جواب دیئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیئے تھے مگر ساتھ ہی حضرت ابو بکر نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا دیکھو عمر ! سنبھل کر رہو اور رسولِ خدا کی رکاب پر جو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دو کیونکہ خدا کی قسم ! یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہر حال سچا ہے۔