اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 377 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 377

اصحاب بدر جلد 2 377 حضرت ابو بکر صدیق بعد میں آپ یہ دلیل فرمارہے ہیں کہ قرآن کریم اصلی حالت میں ہے اور کوئی اس میں رد و بدل نہیں ہے جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ تبدیلی ہوئی، اور یہ تھا، اور وہ تھا۔آج کل بھی اعتراض اٹھتے ہیں اس کا یہ جواب ہے۔حضرت مصلح موعودؓ ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پورا قرآن نہ لکھا گیا تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانہ میں یقیناً سارا قرآن لکھا گیا تھا۔یہ جو کہتے ہیں نہیں لکھا گیا یہ غلط ہے۔لکھا گیا تھا۔جیسا کہ حضرت عثمانؓ کی روایت ہے کہ جب کوئی حصہ نازل ہو تا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے والوں کو بلاتے اور فرماتے اسے فلاں جگہ داخل کرو۔جب یہ تاریخی ثبوت موجود ہے تو پھر یہ کہنا کہ قرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت پورا نہ لکھا گیا تھا بے وقوفی ہے۔رہا یہ سوال کہ پھر حضرت ابو بکر کے زمانہ میں کیوں لکھا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قرآن اس طرح ایک جلد میں نہ تھا جس طرح اب ہے۔حضرت عمرؓ کو یہ خیال پیدا ہوا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ قرآن محفوظ نہیں۔اس لیے انہوں نے اس بارے میں حضرت ابو بکر سے جو الفاظ کہے وہ یہ تھے کہ ائی آری اَنْ تَأْمُرَ جَمَعَ الْقُرْآنِ۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن کو ایک کتاب کی شکل میں جمع کرنے کا حکم دیں۔یہ نہیں کہا کہ آپ اس کی کتابت کرالیں۔پھر حضرت ابو بکڑ نے زید کو بلا کر کہا کہ قرآن جمع کرو چنانچہ فرمایا اجمعہ۔اسے ایک جگہ جمع کر دو یہ نہیں کہا کہ اسے لکھ لو۔غرض الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اس وقت قرآن کے اوراق کو ایک جلد میں اکٹھا کرنے کا سوال تھا لکھنے کا سوال نہ تھا۔8764 حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں قرآن کریم ایک جلد میں جمع کر دیا گیا اور بعد میں حضرت عثمان کے عہد خلافت میں مزید پیش رفت یہ ہوئی کہ تمام عرب بلکہ تمام مسلم دنیا کو ایک قراءت پر جمع کر دیا گیا۔چنانچہ حضرت عثمان کے دور میں قرآن کریم کی اشاعت کے حوالے سے حضرت مصلح موعود بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کے بعد حضرت عثمان کے زمانے میں شکایت آئی کہ مختلف قبائل کے لوگ مختلف قراء توں کے ساتھ قرآن کریم کو پڑھتے ہیں اور غیر مسلموں پر اس کا برا اثر پڑتا ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے کئی نسخے ہیں۔اس قراءت سے مراد یہ ہے کہ کوئی قبیلہ کسی حرف کو زبر سے پڑھتا ہے دو سر از یر سے پڑھتا ہے تیسر ا پیش سے پڑھتا ہے اور یہ بات سوائے عربی کے اور کسی زبان میں نہیں پائی جاتی۔اس لیے عربی نہ جاننے والا آدمی جب یہ سنے گا تو وہ سمجھے گا کہ یہ کچھ کہہ رہا ہے اور وہ کچھ کہہ رہا ہے حالانکہ کہہ وہ ایک ہی بات رہے ہوں گے۔پس اس فتنہ سے بچانے کے لیے حضرت عثمان نے یہ تجویز فرمائی کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں جو نسخہ لکھا گیا تھا اس کی کا پیاں کر والی جائیں اور مختلف ملکوں میں بھیج دی جائیں اور حکم دے دیا جائے کہ بس اسی قراءت کے مطابق قرآن پڑھنا ہے