اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 372 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 372

اصحاب بدر جلد 2 372 حضرت ابو بکر صدیق بھی نہیں ہو تا۔جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے یعنی اللہ اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اس کو بڑھا کر اجر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا ان سب میں بہتر ہے جس کی خدا تعالیٰ کے بندے ایک دوسرے کو تلقین کرتے ہیں۔تم خدا کے راستوں میں سے ایک راستے پر جارہے ہو لہذا جو امر تمہارے دین کی قوت اور تمہاری حکومت کی حفاظت کا موجب ہو اس میں تمہارا کو تاہی کرنا نا قابلِ معافی جرم ہے۔پس تمہاری طرف سے سستی اور غفلت ہر گز نہیں ہونی چاہیے۔864 حضرت مستورد بن شداد بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی علیکم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی رکھ لے اور اگر اس کے پاس خادم نہ ہو تو وہ ایک خادم رکھ لے۔اگر اس کے پاس رہائش کے لیے مکان نہ ہو تو رہائش کے لیے ایک مکان رکھ لے۔مستورد نے کہا حضرت ابو بکر نے فرمایا جو شخص ان اشیاء کے علاوہ کچھ بھی لے تو وہ خائن ہے یا فرمایا کہ وہ چور ہے۔866 865 عمال کا محاسبہ کس طرح ہوتا تھا؟ حضرت ابو بکر عمال و حکام کی ایک ایک حرکت پر نظر رکھتے تھے۔چونکہ یہ لوگ آنحضور صلی علی علم کا فیض صحبت حاصل کر چکے تھے اس لیے حضرت عمرؓ کے بر عکس حضرت ابو بکران کی معمولی بھول چوک سے در گزر فرماتے تھے۔نظر رکھتے تھے کہ کیا کر رہے ہیں لیکن معمولی باتوں کو در گذر فرماتے تھے۔تاریخ طبری میں ہے کہ حضرت ابو بکر اپنے عمال اور آدمیوں کو قید نہیں کرتے تھے لیکن جب کوئی سخت غلطی کرتا تو آپ اس کو مناسب تنبیہ ضرور فرماتے تھے خواہ وہ عہدے کے اعتبار سے کتنا بڑا کیوں نہ ہو۔حضرت مہاجر بن امیہ کے بارے میں آپ کو معلوم ہوا کہ انہوں نے ایک ایسی عورت کے دانت اکھڑ وادیے ہیں جو مسلمانوں کی ہجو کرتی ہے تو اس پر آپ نے فوراً حضرت مہاجر کو سر زنش کا خط لکھا۔حتی کہ اگر آپ کو حضرت خالد بن ولیڈ کی کسی کو تاہی کا علم ہو تا تو آپ ان کو بھی سرزنش کرنے میں تامل نہ فرماتے۔امراء اور گورنروں کی ذمہ داریوں کے بارے میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر نے مختلف علاقوں، شہروں اور قصبوں میں جو گورنر اور امراء مقرر کیے تھے ان کی مختلف ذمہ داریاں اور ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں۔امراء اور ان کے نائبین کی مالی ذمہ داریاں بھی تھیں۔وہ اپنے اپنے علاقے میں علاقے کے دولتمندوں سے زکوۃ وصول کر کے غرباء میں تقسیم کرتے تھے اور غیر مسلموں سے جزیہ لے کر بیت المال میں جمع کراتے تھے۔ان کی یہ ذمہ داری عہد نبوی سے چلی آرہی تھی۔رسول کریم صلی ا ظلم کے عہد میں ہونے والے معاہدوں کی تجدید کی گئی۔نجران کے والی نے رسول کریم صلی للی کم اور اہل نجران کے در میان کیے گئے معاہدے کی تجدید کی تھی کیونکہ اہل نجران کے عیسائیوں نے اس کا مطالبہ کیا تھا۔امراء اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو دینی تعلیم دینے اور اسلام کی تبلیغ و دعوت اور نشر و اشاعت میں بھر پور کر دار ادا کرتے تھے۔ان میں سے اکثر مساجد میں حلقہ بنا کر لوگوں کو قرآن اور اسلامی احکام اور آداب