اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 20

محاب بدر جلد 2 20 حضرت ابو بکر صدیق سة حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی یہ کم نے جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا خطاب دیا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔آنحضرت صلی الل ولم نے یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کے اندر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقت میں حضرت ابو بکر نے جو صدق دکھایا اس کی نظیر ملنی مشکل ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات حاصل کرنے کی خواہش کرے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ابو بکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتی المقدور دعا سے کام لے۔جب تک ابو بکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جا تا صدیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔“ مرتے دم تک اسے نبھایا اور بعد مرنے کے بھی ساتھ نہ چھوڑا پھر فرمایا کہ ”ابو بکری فطرت کیا ہے؟ اس پر مفصل بحث اور کلام کا یہ موقعہ نہیں کیونکہ اس کے تفصیلی بیان کیلئے بہت وقت درکار ہے۔فرمایا کہ ”میں مختصراً ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جب آنحضرت صلی الیکم نے نبوت کا اظہار فرمایا۔اس وقت حضرت ابو بکر شام کی طرف سوداگری کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔جب واپس آئے تو ابھی راستے ہی میں تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا۔آپ نے اس سے مکے کے حالات دریافت فرمائے اور پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔جیسا کہ قاعدے کی بات ہے کہ جب انسان سفر سے واپس آتا ہے تو راستے میں اگر کوئی اہل وطن مل جائے۔تو اس سے اپنے وطن کے حالات دریافت کرتا ہے۔اس شخص نے جواب دیا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرے دوست محمد صلی الم نے پیغمبری کا دعوتی کیا ہے۔حضرت ابو بکر نے یہ سنتے ہی فرمایا کہ اگر اس نے یہ دعویٰ کیا ہے تو بلاشک وہ سچا ہے۔اسی ایک واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ملی تم پر آپ کو کس قدر حسن ظن تھا۔معجزے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور حقیقت بھی یہی ہے کہ معجزہ وہ شخص مانگتا ہے جو مدعی کے حالات سے ناواقف ہو اور جہاں غیریت ہو اور مزید تسلی کی ضرورت ہو لیکن جس شخص کو حالات سے پوری واقفیت ہو تو اسے معجزے کی ضرورت ہی کیا ہے۔الغرض حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ راستہ میں ہی آنحضرت صلی علیکم کا دعویٰ نبوت سن کر ایمان لے آئے۔پھر جب مکے میں پہنچے تو آنحضرت صلی کم کی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ ہاں یہ درست ہے۔اس پر حضرت ابو بکر نے کہا کہ آپ گواہ رہیں کہ میں آپ کا پہلا مصدق ہوں۔آپ کا ایسا کہنا محض قول ہی قول نہ تھا بلکہ آپ نے “ یعنی حضرت ابو بکر نے ” اپنے افعال سے اسے ثابت کر دکھایا اور مرتے دم تک اسے نبھایا اور بعد مرنے کے بھی ساتھ نہ چھوڑا۔6766 سب سے زیادہ ستائے گئے اور سب سے پہلے تخت نبوت پر بٹھائے گئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورۃ رحمن کی آیت وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن۔(الرحمن: 47) اور جو بھی اپنے رب کے مقام سے ڈرتا ہے اس کے لیے دو جنتیں ہیں وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتِن جو