اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 317 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 317

اصحاب بدر جلد 2 317 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد بن ولید رضاب پر قبضہ کر کے فراض پہنچے۔اس سفر میں حضرت خالد کو بہت سی لڑائیاں پیش آئیں۔یہاں حضرت خالد رمضان کے روزے بھی نہ رکھ سکے۔خالد کے ان اچانک حملوں اور قبائل کے ان کے مقابل پہ عاجز رہنے کی خبریں عراق بھر میں پھیل چکی تھیں اور صحرا میں رہنے والے تمام قبائل خوفزدہ ہو چکے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈالنے اور ان کی اطاعت قبول کرنے ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوجوں کے ہمراہ دریائے فرات کے ساتھ ساتھ شمالی علاقوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور وہ جہاں بھی پہنچتے وہاں کے باشندے ان سے مصالحت کر لیتے اور ان کی اطاعت کرنے کا اقرار کرتے۔آخر وہ فراض پہنچ گئے جہاں شام عراق اور الجزیرہ کی سرحدیں ملتی تھیں۔فراض عراق اور شام کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔اگر عیاض بن غنم کی قسمت ساتھ دیتی اور وہ ابتدا ہی سے دومۃ الجندل فتح کر لیتے تو غالباً خالد یہاں تک نہ پہنچتے کیونکہ حضرت ابو بکر کا منشا سارے عراق اور شام کو فتح کرنے کا نہ تھا۔وہ صرف یہ چاہتے تھے کہ ان دونوں ملکوں کی سر حدوں پر جو عرب سے ملتی ہیں امن و امان قائم ہو جائے اور ان اطراف سے ایرانی اور رومی عرب پر حملہ آور نہ ہو سکیں لیکن اللہ کو یہی منظور تھا کہ یہ دونوں مملکتیں مکمل طور پر مسلمانوں کے قبضہ میں آ جائیں اس لیے اس نے ایسے اسباب پیدا کر دیے کہ خالد عراقی قبائل کو مطیع کرنے کی غرض سے انتہائی شمال تک چلے گئے اور اس طرح مسلمانوں کے لیے بالائی جانب سے شام پر حملہ کرنے کا راستہ کھل گیا۔ایرانی سرحدوں سے رومیوں پر حملہ کا رستہ کھل جانا ایک ایسا معجزہ تھا جس کا خیال حضرت ابو بکر کو بھی نہیں آسکا اور یہ کارنامہ ایسے شخص کے ہاتھوں رونما ہوا جس کی نظیر پیدا کرنے سے عرب اور عجم کی عورتیں واقعی عاجز رہیں جیسا کہ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا تھا۔فراض میں خالد کو کامل ایک مہینے تک قیام کرنا پڑا۔یہاں بھی انہوں نے ایسی جرات اور عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا کہ وہ اپنی نظیر آپ ہے۔وہ چاروں طرف سے دشمن میں گھرے ہوئے تھے۔مشرقی جانب ایرانی تھے جو ان کے خون کے پیاسے ہو رہے تھے۔مغربی جانب رومی تھے جن کا یہ خیال تھا کہ اگر اس وقت خالد کی جمعیت کو تباہ و برباد نہ کیا تو پھر یہ سیلاب روکے نہ رکے گا۔رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صرف دریائے فرات حائل تھا۔ان کے علاوہ چاروں طرف بدوی قبائل آباد تھے جن کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کر کے خالد نے ان کے دلوں میں انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑکا دی تھی۔اس نازک صورتحال سے خالد لا علم نہ تھے۔اگر وہ چاہتے تو حیرہ واپس آکر اپنی قوت و طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے پھر رومیوں کے مقابلے کے لیے روانہ ہو سکتے تھے۔انہوں نے ایسا نہ کیا کیونکہ دشمن کو سامنے دیکھ کر خالد کے لیے صبر کرنا ناممکن ہو جاتا تھا۔طبیعت ایسی تھی ان کی۔ان کی نظروں میں کیا ایرانی اور کیا اہل باد یہ سب قابل تسخیر تھے۔ان کی عظیم الشان فوجوں کو وہ نہ پہلے کبھی خاطر میں لائے اور نہ آئندہ خاطر میں لانے کو تیار تھے ، اس لیے وہ بڑے اطمینان سے لڑائی کی تیاریوں میں مشغول رہے۔ادھر رومیوں کو ابھی تک خالد سے