اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 310 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 310

اصحاب بدر جلد 2 310 حضرت ابو بکر صدیق خالد نے انبار کے اطراف کے لوگوں سے بھی صلح کر لی۔733 جنگ عین التمر پھر جنگ عین التمر بھی بارہ ہجری میں لڑی گئی، اس کا ذکر ہے۔جب حضرت خالد انبار کی فتح۔فارغ ہوئے اور وہ مکمل طور پر آپ کے قبضہ میں آ گیا تو آپ نے اس کے قریبی علاقہ عین التمر کا قصد کیا جو عراق اور صحرائے شام کے درمیان صحرا کے کنارے واقع ہے۔انبار سے عین التمر تک پہنچنے میں تین دن لگے۔ایرانیوں کی طرف سے وہاں کا حاکم مہران بن بہرام تھا۔وہ عجمیوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ایرانی فوج کے علاوہ عرب کے مختلف بدوی قبائل بھی وہاں موجود تھے جن کا سر دار عقہ بن ابی عقہ تھا۔جب ان لوگوں نے حضرت خالد کے متعلق سنا تو عقہ نے مہران سے کہا عرب عربوں سے جنگ کرنا خوب جانتے ہیں۔پس ہمیں اور خالد کو چھوڑ دو۔اس کو یہ زعم تھا کہ ہمیں پتا ہے ہم ان سے کس طرح جنگ کریں گے۔مہران نے کہا تم نے ٹھیک کہا ہے کہ عربوں سے لڑنے میں تم ایسے ہی ماہر ہو جیسے ہم عجمیوں سے لڑنے میں ماہر ہیں۔اس طرح اس نے عقہ کو دھوکا دیا اور اس کے ذریعہ اپنا بچاؤ کیا اور اس نے کہا: تم ان سے لڑو اگر تمہیں ہماری ضرورت ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے۔جب عقہ حضرت خالد کے مقابلے کے لیے چلا گیا تو عجمیوں نے عقہ کے متعلق انتہائی سخت زبان استعمال کرتے ہوئے مہران سے کہا۔تجھے کس چیز نے آمادہ کیا تھا کہ تم اس سے یہ بات کرو۔اس نے کہا تم مجھے چھوڑ دو۔میں نے وہی چاہا جو تمہارے لیے بہتر اور مسلمانوں کے لیے برا ہے۔یقینا تمہارے پاس وہ بندہ آ رہا ہے جس نے تمہارے بادشاہوں تک کو قتل کر دیا ہے، حضرت خالد بن ولید کے بارے میں کہا، بڑے زبر دست سپہ سالار ہیں اور تمہاری شوکت و سطوت کو روند کر رکھ دیا ہے۔پس میں نے تو عقہ کو ان کے مقابلے میں بطور ڈھال استعمال کیا ہے۔اگر ان کو خالد کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی تو یہ فتح تمہاری ہو گی اور اگر معاملہ اس کے بر عکس ہوا تو تم مسلمانوں کے مقابلے میں نہیں جاؤ گے مگر اس حال میں کہ وہ کمزور پڑ چکے ہوں گے۔پھر ہم ان سے جنگ کریں گے تو ہم طاقتور اور وہ کمزور ہوں گے۔یہ بات سن کر انہوں نے مہران کی رائے کی برتری کا اعتراف کر لیا۔مہران و ہیں عین التمر میں مقیم رہا اور عقہ نے حضرت خالد کے مقابلے کے لیے راستے میں پڑاؤ ڈال لیا۔734 عقہ ابھی اپنے لشکر کی صفیں ہی درست کر رہا تھا کہ حضرت خالد نے بذات خود اس پر حملہ کر دیا اور اسے قید کر لیا اور اس کا لشکر بغیر لڑائی کے ہی شکست کھا کر بھاگ گیا اور ان میں سے اکثر کو قید کر لیا گیا۔جب یہ خبر مہران تک پہنچی تو وہ اپنے لشکر کو لے کر فرار ہو گیا اور انہوں نے قلعہ چھوڑ دیا۔جب شکست کھانے والے اس قلعہ تک پہنچے، اس میں پناہ لی اور حضرت خالد نے ان کا محاصرہ کر لیا جس پر انہوں نے حضرت خالد سے امان طلب کی مگر آپ نے انکار کر دیا۔انہوں نے آپ کا فیصلہ قبول کرتے