اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 311

اصحاب بدر جلد 2 311 حضرت ابو بکر صدیق ہوئے ہتھیار ڈال دیے اور آپ نے انہیں قیدی بنالیا اور عقہ اور جو لوگ اس کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شامل تھے ان سب کو قتل کر دیا اور جو قلعہ میں تھے ان کو قید کر لیا اور جو سامان قلعہ میں موجود تھا اس کو بطور غنیمت لے لیا۔آپ نے ان کے کلیسیا کے اندر چالیس لڑکوں کو پایا جنہیں عیسائیوں نے گروی بنا لیا تھا۔یہ لڑ کے بیشتر عربی نژاد تھے۔ان لڑکوں کو اسلامی تاریخ میں اس لیے اہمیت حاصل ہے کہ ان کی اولاد میں سے ایسے بڑے بڑے لوگ پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اس عہد میں اور بعد کے عہد کی تاریخ پر گہرے اور ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ان لڑکوں میں محمد بن سیرین کے والد سیرین، موسیٰ بن نصیر کے والد نصیر اور حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام حمران بھی شامل تھے۔سیرین عراق کے رہنے والے تھے۔معرکہ عین التمر میں قیدی ہوئے اور حضرت انس بن مالک کے غلام بنے۔وہ بہت بڑے صناع تھے۔انہوں نے حضرت انس سے مکاتبت کرتے ہوئے آزادی حاصل کر لی تھی۔ان کے بیٹے کا نام محمد بن سیرین تھا جو مشہور تابعی تھے اور تفسیر اور حدیث اور فقہ اور تعبیر الرؤیا وغیر ہ فنون میں امام تھے۔یہ محمد بن سیرین ان کے بیٹے تھے جو جنگ میں قیدی بنائے گئے تھے اور پھر بعد میں انہوں نے آزادی لے لی۔پھر نصیر تھے یہ موسیٰ بن نصیر کے والد تھے۔یہ بنو امیہ کے قیدیوں میں سے تھے۔بنو امیہ کے کسی شخص نے انہیں آزاد کروایا تھا۔یہ اپنے بیٹے موسیٰ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔موسیٰ بن نصیر نے شمالی افریقہ میں شہرت پائی اور طارق بن زیاد کے ساتھ مل کر سپین میں اسلامی حکومت قائم کرنے میں بہت بڑا کر دار ادا کیا تھا۔پھر حمران بن ابان بھی معرکہ عین التمر کے قیدیوں میں سے تھے۔یہ یہود میں سے تھے۔انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔حضرت عثمان نے انہیں آزاد کر وا دیا۔حضرت عثمان کا خاص قرب پانے والے تھے۔اکتالیس ہجری میں یہ کچھ عرصہ کے لیے بصرہ کے حاکم بنے اور بعد میں بنو امیہ کی حکومت میں بڑا نام پیدا کیا۔حضرت خالد نے فتح کی خوشخبری اور خمس حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیج دیا۔انبار اور عین التمر کی فتح کے بعد خالد نے ولید بن عقبہ کو خمس دے کر فتح کی خوشخبری کے ساتھ حضرت ابو بکر کی خدمت میں بھیجا۔انہوں نے مدینہ پہنچ کر انہیں تمام حالات سے آگاہ کیا اور بتایا 735 کہ خالد نے ان کے احکام نظر انداز کرتے ہوئے حیرہ اس لیے چھوڑا اور انبار اور عین التمر پر اس۔چڑھائی کی کہ انہیں جیزہ میں قیام کیے ہوئے پورا ایک سال ہو گیا تھا۔حضرت ابو بکڑ نے ہدایت دی تھی وہاں حیرہ میں انتظار کرنا لیکن بہر حال انہوں نے یہ کیا۔ان حالات میں اسی کو بہتر سمجھا اور عیاض کا کچھ پتا نہ تھا کہ وہ کب دومة الجندل سے فارغ ہو کر خالد کی مدد کے لیے حیرہ پہنچتے ہیں۔دیر ہو گئی تھی۔عیاض وہاں پہنچ نہیں رہے تھے۔حضرت ابو بکر بھی عیاض کی ست روی سے تنگ آچکے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ مسلمانوں کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔اگر دشمن کو خالد کے ان کارناموں کی اطلاعات ملتی رہتیں جو انہوں نے عراق میں انجام دیے تھے تو یقیناً وہ عیاض کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو سخت زک پہنچاتے۔736