اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 251
محاب بدر جلد 2 251 حضرت ابو بکر صدیق سے عرض کیا یار سول اللہ ! ہم لوگ آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے۔آپ صلی این کرم نے فرمایا کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ لوگوں کو ایک ہجرت کا شرف حاصل ہو اور تم کو دو ہجرتوں کا۔603 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے دیباچہ تفسیر القرآن میں جو کاتبین وحی کے نام بیان فرمائے ہیں ان 604 میں حضرت خالد بن سعید بن عاص کا نام بھی ہے۔حضرت خالد بن سعید کو رسول اللہ صل الم نے یمن کے صدقات وصول کرنے پر مقرر فرمایا تھا۔سة 605 نبی کریم صلی ال نیم کی وفات تک آپ اسی منصب پر رہے۔آنحضرت صلی اللہ کم کی وفات کے بعد مدینہ آگئے تو حضرت ابو بکر نے ان سے فرمایا کہ تم واپس کیوں آگئے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی الیکم کے بعد کسی کی طرف سے کام نہیں کریں گے۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت میں توقف کیا لیکن جب بنو ہاشم نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تو حضرت خالد نے بھی حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی۔پھر بعد میں حضرت ابو بکر نے انہیں مختلف مواقع پر لشکروں کا امیر بنا کر بھیجا۔حضرت خالد جنگ مرنج الصفر میں حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں شہید ہوئے اور بعض لوگوں کا بیان ہے کہ جنگ مرج الصفر چونکہ 14 ہجری میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کے شروع میں ہوئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ حضرت خالد ملک شام میں جنگ اجنادین میں حضرت ابو بکر کی وفات سے چوبیس دن پہلے شہید ہوئے تھے۔تاریخ طبری میں حضرت خالد کی مرتدین کے خلاف مہم کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے: حضرت ابو بکر نے جب مرتدین کی سرکوبی کے لیے جھنڈے باندھے اور جنہیں منتخب کرنا تھا کر لیا تو ان میں سے ایک حضرت خالد بن سعید بھی تھے۔حضرت عمر نے حضرت ابو بکر کو انہیں امیر مقرر کرنے سے منع کیا اور عرض کیا کہ آپ ان سے کوئی کام نہ لیں۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ نہیں۔حضرت عمر کی رائے سے اختلاف کیا اور حضرت خالد کو تیاء میں امدادی دستہ پر متعین کر دیا۔تیاء بھی شام اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور شہر ہے۔چنانچہ حضرت ابو بکر نے جب حضرت خالد بن سعید کو تیماء جانے کا حکم دیا تو فرمایا کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا اور اطراف کے لوگوں کو اپنے سے ملنے کی دعوت دینا اور صرف ان لوگوں کو قبول کرنا جو مرتد نہ ہوئے ہوں اور کسی سے لڑائی نہ کرنا سوائے اس کے جو تم سے لڑائی کرے یہاں تک کہ میرے احکام پہنچ جائیں۔حضرت خالد نے تیاء میں قیام کیا اور اطراف کی بہت سی جماعتیں ان سے آ ملیں۔رومیوں کو مسلمانوں کے اس عظیم الشان لشکر کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے زیر اثر عربوں سے شام کی جنگ کے لیے فوجیں طلب کیں۔حضرت خالد نے رومیوں کی تیاری اور عرب قبائل کی آمد کے متعلق حضرت ابو بکر کو مطلع کیا۔حضرت ابو بکر نے جواب لکھا کہ تم پیش قدمی کرو۔ذرامت گھبر اؤ اور اللہ سے مدد طلب کرو۔حضرت خالد یہ جواب ملتے ہی دشمن کی طرف بڑھے اور جب قریب پہنچے تو دشمن پر کچھ ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ سب اپنی جگہ چھوڑ کر ادھر اُدھر منتشر ہو گئے اور بھاگ گئے۔