اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 252 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 252

محاب بدر جلد 2 252 حضرت ابو بکر صدیق حضرت خالد دشمن کے مقام پر قابض ہو گئے۔اکثر لوگ جو حضرت خالد کے پاس جمع تھے مسلمان ہو گئے۔اس کامیابی کی اطلاع حضرت خالد نے حضرت ابو بکر کو دی۔حضرت ابو بکر نے لکھا کہ تم آگے بڑھو مگر اتنا آگے نہ نکل جانا کہ پیچھے سے دشمن کو حملہ کرنے کا موقع مل جائے۔606 کتب تاریخ سے حضرت ابو بکرؓ کے دور میں مرتدین کے خلاف حضرت خالد بن سعید کی کارروائیوں کا صرف اتنا ہی ذکر ملتا ہے۔اس کے علاوہ حضرت ابو بکر کے دور میں فتوحات شام کے تذکرے میں ان کا کردار جو ہے وہ آئندہ بیان ہو جائے گا۔حضرت طریقہ بن حاجز کی مہم آٹھویں مہم حضرت طریقہ بن کا جز کی مرتد باغیوں کے خلاف مہم تھی۔حضرت ابو بکر نے ایک جھنڈ ا حضرت ظریفہ بن حاجز کے لیے باندھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ بنو سلیم اور بنو ہوازن کا مقابلہ کریں۔607 ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر نے قبیلہ بنو سلیم اور بنو ہوازن کے مقابلے کے لیے مغن ہے۔608 بن حاجز کو بھیجا تھا۔بہر حال علامہ ابن عبد البر نے الاستیعاب میں حضرت ظریفہ اور معن کے والد کا نام حاجز یعنی زاء کے ساتھ اور علامہ ابن اثیر نے اسد الغابہ میں حاجر یعنی راء کے ساتھ لکھا۔حضرت ابو بکر نے خلیفہ مقرر ہونے کے بعد حضرت ظریفہ بن حاجز کو بنو سلیم کے ان عربوں پر جو اسلام پر قائم تھے والی بنایا تھا۔یہ مخلص اور جو شیلے کارکن تھے۔انہوں نے ایسی مؤثر تقریریں کیں کہ بنو سلیم کے بہت سے عرب ان سے آملے۔609 ایک اور روایت میں ہے۔یہ روایت حضرت عبد اللہ بن ابو بکر بیان کرتے ہیں کہ بنو سلیم کی۔یہ حالت تھی کہ نبی کریم صلی علیہ کم کی وفات کے بعد ان میں سے بعض مرتد ہو گئے اور کفر کی طرف لوٹ گئے اور ان کے بعض افراد اپنے قبیلے کے امیر معن بن حاجز یا بعض کے نزدیک ان کے بھائی ظریفہ بن حاجز اسلام پر ثابت قدم رہے۔جب حضرت خالد بن ولید ، طلیحہ کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت ابو بکر نے معن کو لکھا کہ بنو سلیم میں سے جو لوگ اسلام پر ثابت قدم ہیں ان کو لے کر حضرت خالد کے ساتھ جاؤ۔حضرت معن اپنی جگہ اپنے بھائی ظریفہ بن حاجز کو جانشین مقرر کر کے حضرت خالد کے ساتھ نکل پڑے۔حضرت عبد اللہ بن ابو بکر سے ہی ایک اور روایت بھی مروی ہے کہ بنو سلیم کا ایک شخص حضرت ابو بکر کے پاس آیا۔اسے فجاءَہ کہا جاتا تھا۔اس کا نام ایاس بن عبداللہ تھا۔فجاءہ کے لفظ میں اچانک کا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ یہ شخص اچانک مسافروں اور بستیوں پر حملہ کر کے انہیں لوٹ لیتا تھا اس لیے اس کا نام فجاءہ پڑ گیا تھا۔بہر حال یہ حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں۔میں کے ساتھ اس 610