اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 233 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 233

اصحاب بدر جلد 2 قرآن کا باعث بنی۔233 حضرت ابو بکر صدیق ان شہداء میں بعض مشہور صحابہ کے نام یہ تھے۔حضرت زید بن خطاب ، حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ ، حضرت سالم مولی ابو حذیفہ ، حضرت خالد بن اُسید ، حضرت حکم بن سعید، حضرت طفیل بن عمرو دوسی، حضرت زبیر بن عوام کے بھائی حضرت سائب بن عوام، حضرت عبد اللہ بن حارث بن قیش، حضرت عباد بن حارث، حضرت عباد بن بشر ، حضرت مالک بن اوس ، حضرت سراقہ بن کعب، حضرت معن بن عدی، خطیب رسول صلی الله علم حضرت ثابت بن قیس بن شماس، حضرت ابودجانہ ، رئیس المنافقین عبد اللہ بن اُبی بن سلول کے مومن صادق فرزند حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ اور حضرت یزید بن ثابت خزر جی 560 بعض مؤرخین کے نزدیک جنگ یمامہ ربیع الاول بارہ ہجری کو ہوئی جبکہ بعض کا قول ہے کہ یہ گیارہ ہجری کے آخر میں ہوئی۔ان دونوں اقوال کی تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس جنگ کا آغاز گیارہ ہجری میں ہو ا ہو اور اس کا اختتام بارہ ہجری میں ہو اہو۔561 حضرت مصلح موعود بیان فرماتے ہیں کہ ”جن لوگوں نے دعویٰ نبوت کیا اور جن سے صحابہ نے جنگ کی وہ سب کے سب ایسے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت سے بغاوت کی تھی اور اسلامی حکومت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تھا۔مسیلمہ نے تو خو د رسول کریم صلی علیکم کے زمانہ میں آپ کو لکھا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آدھا ملک عرب کا ہمارے لئے ہے اور آدھا ملک قریش کے لئے ہے اور رسول کریم صلی علیہ یکم کی وفات کے بعد اس نے حجر اور یمامہ میں سے ان کے مقرر کردہ والی تمامہ بن اثال کو نکال دیا اور خود اس علاقہ کا والی بن گیا اور اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔اسی طرح مدینہ کے دو صحابہ حبیب بن زید اور عبد اللہ بن وہب کو اس نے قید کر لیا اور ان سے زور کے ساتھ اپنی نبوت منوانی چاہی۔عبد اللہ بن وہب نے تو ڈر کر اس کی بات مان لی مگر حبیب بن زید نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اس پر مسیلمہ نے اس کا عضو عضو کاٹ کر آگ میں جلا دیا۔اسی طرح یمن میں بھی جو رسول کریم صلی الیم کے افسر مقرر تھے ان میں سے بعض کو قید کر لیا اور بعض کو سخت سزائیں دی گئیں۔اسی طرح طبری نے لکھا ہے کہ اسود عنسی نے بھی علم بغاوت بلند کیا تھا اور رسول کریم ملی علیم کی طرف سے جو حکام مقرر تھے ان کو اس نے تنگ کیا تھا اور ان سے زکوۃ چھین لینے کا حکم دیا تھا۔پھر اس نے صنعا میں رسول کریم صلی الم کے مقرر کردہ حاکم شھر بن باذان پر حملہ کر دیا تھا۔بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا، لوٹ مار کی، گورنر کو قتل کر دیا اور اس کو قتل کر دینے کے بعد اس کی مسلمان بیوی سے جبر آنکاح کر لیا۔بنو نجران نے بھی بغاوت کی اور وہ بھی اسود عنسی کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے دو صحابہ عمرو بن حزم اور خالد بن سعید کو علاقہ سے نکال دیا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ مدعیانِ نبوت کا مقابلہ اس وجہ سے نہیں کیا گیا تھا کہ وہ رسول کریم صلی الیکم کی امت میں سے نبی ہونے کے دعوے دار تھے اور رسول کریم صلی للی نیلم کے دین کی اشاعت کے مدعی تھے