اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 234
حاب بدر جلد 2 234 حضرت ابو بکر صدیق 562" بلکہ صحابہ نے ان سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر کے اپنے قانون جاری کرتے تھے اور اپنے اپنے علاقہ کی حکومت کے دعوے دار تھے اور صرف علاقہ کی حکومت کے دعوے دار ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے صحابہ کو قتل کیا۔اسلامی ملکوں پر چڑھائیاں کیں، قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اپنی آزادی کا اعلان کیا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرماتے ہیں کہ ”جب آنحضرت نے رحلت فرمائی۔۔۔اس کے بعد بادیہ نشین اعراب مرتد ہو گئے۔ایسے نازک وقت کی حالت کو حضرت عائشہ صدیقہ نے یوں ظاہر فرمایا ہے کہ پیغمبر خداصلی ملی یکم کا انتقال ہو چکا ہے اور بعض جھوٹے مدعی نبوت کے پیدا ہو گئے ہیں اور بعضوں نے نمازیں چھوڑ دیں اور رنگ بدل گیا ہے۔ایسی حالت میں اور اس مصیبت میں میرا باپ آنحضرت علی علیکم کا خلیفہ اور جانشین ہوا۔میرے باپ پر ایسے ایسے غم آئے کہ اگر پہاڑوں پر آتے تو وہ بھی نابود ہو جاتے۔اب غور کرو کہ مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ پڑنے پر بھی ہمت اور حوصلہ کو نہ چھوڑنا یہ کسی معمولی انسان کا کام نہیں۔یہ استقامت صدق ہی کو چاہتی تھی اور صدیق نے ہی دکھائی۔ممکن نہ تھا کہ کوئی دوسرا اس خطرہ کو سنبھال سکتا۔تمام صحابہ اس وقت موجود تھے۔کسی نے نہ کہا کہ میرا حق ہے۔وہ دیکھتے تھے کہ آگ لگ چکی ہے۔اس آگ میں کون پڑے۔حضرت عمر نے اس حالت میں ہاتھ بڑھا کر آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر سب نے یکے بعد دیگرے بیعت کر لی۔یہ ان کا صدق ہی تھا کہ اس فتنہ کو فرو کیا اور ان موذیوں کو ہلاک کیا۔مسیلمہ کے ساتھ ایک لاکھ آدمی تھا اور اس کے مسائل اباحت کے مسائل تھے۔“ اباحت جو ہے کسی چیز کا شریعت میں مباح یعنی جائز یا حلال ہونا ہے۔563 لوگ اس کی اباحتی باتوں کو دیکھ دیکھ کر اس میں شامل ہو جاتے تھے۔بہت ساری غلط چیزوں کو بھی وہ جائز قرار دیا کرتا تھا۔پہلے اس کا بیان بھی ہو چکا ہے۔بہر حال فرمایا کہ ”لوگ ابا حتی باتوں کو دیکھ دیکھ کر اس کے مذہب میں شامل ہوتے جاتے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اپنی معیت کا ثبوت دیا اور ساری 564" مشکلات کو آسان کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مزید فرماتے ہیں ” اہل تحقیق سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ آپ کی خلافت کا وقت خوف اور مصائب کا وقت تھا چنانچہ جب رسول اللہ صلی علیکم نے وفات پائی تو اسلام اور مسلمانوں پر مصائب ٹوٹ پڑے۔بہت سے منافق مرتد ہو گئے اور مرتدوں کی زبانیں دراز ہو گئیں اور افترا پردازوں کے ایک گروہ نے دعوی نبوت کر دیا اور اکثر بادیہ نشین ان کے گرد جمع ہو گئے یہاں تک کہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ ایک لاکھ کے قریب جاہل اور بد کردار آدمی مل گئے اور فتنے بھڑک اٹھے اور مصائب بڑھ گئے اور آفات نے دور و نزدیک کا احاطہ کر لیا اور مومنوں پر ایک شدید زلزلہ طاری ہو گیا۔اس وقت تمام لوگ آزمائے گئے اور خوفناک اور حواس باختہ کرنے والے حالات نمودار ہو گئے اور سو من ایسے لاچار تھے کہ گویا ان کے دلوں میں آگ کے انگارے دہکائے گئے ہوں یا وہ چھری سے ذبح