اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 232

حاب بدر جلد 2 232 حضرت ابو بکر صدیق 556 پڑے گا اور اللہ ضرور اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔حضرت ابو بکر یمامہ کی طرف سے آنے والی خبروں کا بشدت انتظار فرماتے تھے اور جیسے ہی خالد کی طرف سے کوئی اپیچی آتا تو آپ ان سے خبریں حاصل کرتے۔ایک روز حضرت ابو بکر دوپہر کے وقت گرمی میں نکلے۔آپ صرار نامی مقام کی طرف جانا چاہتے تھے جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔آپ کے ساتھ حضرت عمرؓ، حضرت سعید بن زید، طلحہ بن عبید اللہ اور مہاجرین و انصار کا ایک گروہ تھا۔آپ ابو خیمہ نجاری سے ملے جنہیں خالد نے بھیجا تھا۔جب انہیں حضرت ابو بکر نے دیکھا تو فرمایا اے ابو خیثمہ ! کیا خبر ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اے خلیفہ رسول ! اچھی خبر ہے۔اللہ نے ہمیں یمامہ پر فتح عطا فرمائی ہے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر نے سجدہ کیا۔ابو خیثمہ نے کہا کہ خالد کا آپ کے نام خط ہے۔حضرت ابو بکر اور آپ کے اصحاب نے اللہ کی حمد کی پھر آپ نے فرمایا مجھے جنگ کے بارے میں بتاؤ کہ کیسا رہا؟ ابو خیثمہ آپ کو بتانے لگے کہ خالد نے کیا کیا کیا تھا اور کیسے اپنے ساتھیوں کی صف آرائی کی تھی اور کس طرح مسلمانوں کو ہزیمت پہنچی اور کون ان میں سے شہید ہوئے۔حضرت ابو بکر إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رجِعُونَ پڑھنے لگے اور ان کے لیے رحم کی دعا کرنے لگے۔ابوخیثمہ نے مزید کہا اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم بدوی ہیں۔انہوں نے ہمیں شکست دی اور ہمارے ساتھ وہ کیا جو ہم اچھا نہیں سمجھتے تھے۔اس کے بعد اللہ نے ہمیں ان پر فتح عطا فرمائی۔حضرت ابو بکر نے فرمایا جو خواب میں نے دیکھی تھی میں اس کو سخت نا پسند کرتا تھا اور میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ خالد کو ضرور شدید جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا اور کاش خالد نے ان لوگوں سے صلح نہ کی ہوتی اور ان کو تلوار کی دھار پر رکھا ہوتا۔ان شہداء کے بعد اہل یمامہ میں سے کسی کے زندہ رہنے کا کیا حق ہے۔فرمایا کہ یہ لوگ جو اس کے ساتھی تھے اپنے اس مسیلمہ کذاب کی وجہ سے قیامت تک آزمائش میں رہیں گے سوائے اس کے کہ اللہ انہیں بچالے۔اس کے بعد اہل یمامہ کا وفد حضرت خالد کے ساتھ حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوا۔7 مقتولین کی تعداد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں قتل ہونے والے مرتدین کی تعداد تقریباً دس ہزار تھی اور ایک روایت میں اکیس ہزار بھی بیان ہوئی ہے جبکہ پانچ سو یا چھ سو کے قریب مسلمان شہید ہوئے۔بعض روایات میں جنگ یمامہ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد سات سو، بارہ سو اور سترہ سو بھی بیان ہوئی ہے۔558 557 ایک روایت کے مطابق اس جنگ میں شہید ہونے والوں میں سات سو سے زائد حفاظ قرآن 559 ان شہداء میں اکابرین صحابہ اور حفاظ قرآن بھی شامل تھے جن کا مقام اور درجہ مسلمانوں میں بے حد بلند تھا۔ان کی شہادت ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔لیکن ان حفاظ قرآن کی شہادت ہی بعد میں جمع