اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 229 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 229

حاب بدر جلد 2 229 حضرت ابو بکر صدیق ذکر کیا کہ وہ رسول کریم صلی العلیم کے زمانے میں میرے پاس آیا کرتے تھے اس دوستی کی وجہ سے جو میرے اور اس کے درمیان قدیم سے تھی۔مُجاعَہ کہتے ہیں کہ جب وہ حضرت ابو بکڑ کے پاس جنگ یمامہ کے ختم ہونے کے بعد وفد میں آئے تو حضرت ابو بکر ایک روز شہداء کی قبروں کی زیارت کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جارہے تھے۔میں بھی ان کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ حضرت ابو بکر اور آپ کے ساتھی ستر صحابہ کی قبروں پر گئے۔میں نے عرض کیا اے خلیفہ رسول ! میں نے جنگ یمامہ میں شامل ہونے والے اصحاب سے زیادہ کسی کو تلواروں کے واروں کے سامنے ثابت قدم رہنے والا نہیں دیکھا اور نہ ان سے زیادہ شدت سے حملہ کرنے والا دیکھا ہے۔میں نے ان میں ایک شخص کو دیکھا۔اللہ ان پر رحم کرے۔میری اور ان کی دوستی تھی۔حضرت ابو بکر نے فرمایا ( پہچان گئے آپ ) کہ معن بن عدی ؟ میں نے عرض کیا ہاں اور حضرت ابو بکر میری اور ان کی دوستی کو جانتے تھے۔آپ نے فرمایا اللہ ان پر رحم کرے تم نے ایک صالح شخص کا ذکر کیا ہے۔میں نے کہا اے خلیفہ رسول ! گویا میں اب بھی چشم تصور میں انہیں دیکھ رہاہوں اور میں خالد بن ولید کے خیمے میں بندھا ہو ا تھا۔مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور اس شدت سے قدم اکھڑے کہ میں نے سمجھا کہ اب ان کے قدم دوبارہ جم نہیں سکیں گے اور مجھے یہ ناگوار لگا۔حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا بخدا! واقعی تمہیں ناگوار گزرا تھا ؟ کیونکہ یہ مرتد ہو گیا تھا اور اسی لیے قید کیا گیا تھا۔بہر حال کہتے ہیں میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! مجھے یہ ناگوار گزرا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا کہ اس پر میں اللہ کی حمد کرتا ہوں۔مُجاعَہ کہتے ہیں میں نے معن بن عدی کو دیکھا وہ سر پر سرخ کپڑا پہنے ہوئے پلٹ کر حملہ کر رہے تھے۔تلوار کندھے پر رکھی ہوئی تھی اور اس سے خون ٹپک رہا تھا۔وہ پکار رہے تھے اے انصار ! پوری قوت سے حملہ کرو۔مُجاعَہ کہتے ہیں کہ انصار نے پلٹ کر حملہ کیا اور اتنا شدید حملہ تھا کہ انہوں نے دشمن کے قدم اکھاڑ دیے۔میں خالد بن ولیڈ کے ساتھ چکر لگا رہا تھا۔میں بنو حنیفہ کے مقتولین کو پہچانتا تھا۔میں انصار کو بھی دیکھ رہا تھا وہ شہید ہو کر گرے ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر یہ سن کر رو پڑے یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ جب ظہر کا وقت آیا تو میں باغ میں داخل ہوا اور شدید جنگ ہو رہی تھی۔حضرت خالد بن ولید نے موذن کو حکم دیا اس نے باغ کی دیوار پر ظہر کی اذان دی۔لوگ لڑائی کی وجہ سے مضطرب تھے یہاں تک کہ عصر کے بعد جنگ ختم ہو گئی تو حضرت خالد نے ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی۔پھر آپ نے پانی پلانے والوں کو مقتولین کی طرف روانہ کیا۔میں ان کے ساتھ چکر لگانے لگا۔میں ابو عقیل کے پاس سے گزرا انہیں پندرہ زخم آئے تھے انہوں نے مجھ سے پانی مانگا میں نے انہیں پانی پلایا تو ان کے تمام زخموں سے پانی بہ نکلا اور وہ شہید ہو گئے۔میں بشر بن عبد اللہ کے پاس سے گزرا۔وہ اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھ سے پانی مانگا۔میں نے انہیں پانی پلایا۔وہ بھی شہید ہو گئے۔