اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 225
حاب بدر جلد 2 225 حضرت ابو بکر صدیق میدان سے نہیں ہے۔آنحضرت صلی الم کے زمانے کا یہ پچھلا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔بہر حال جنگ یمامہ کے واقعہ میں بیان ہے کہ اس میں ابو دجانہ پر بنو حنیفہ کے ایک گروہ نے حملہ کیا۔اب یمامہ میں کیا ہوا۔ان کے بارے میں لکھا ہے ان پر ایک گروہ نے حملہ کیا تو آپ اپنے سامنے بھی تلوار چلاتے ، اپنے دائیں بھی تلوار چلاتے اور اپنے بائیں بھی تلوار چلاتے۔آپ نے ایک شخص پر حملہ کیا اور اسے زمین پر گرادیا۔آپ کوئی بات نہیں کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ گروہ آپ سے دُور ہو گیا اور واپس چلا گیا اور مسلمان قریب آگئے۔بنو حنیفہ شکست کھا کر باغ کی طرف بھاگے۔مسلمان ان کے پیچھے بھاگے اور انہیں باغ میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا۔ان لوگوں نے باغ کے دروازے بند کر لیے تو حضرت ابو دجانہ نے کہا مجھے ڈھال میں ڈال کر پھینک دو تا کہ میں اندر جا کر باغ کا دروازہ کھول سکوں۔چنانچہ مسلمانوں نے ایسا ہی کیا اور آپ باغ میں پہنچ گئے۔آپ کہہ رہے تھے تمہارا بھاگنا تمہیں ہم سے بچا نہیں سکتا۔آپ نے ان کے ساتھ سخت جنگ کی یہاں تک کہ دروازہ کھول دیا۔راوی کہتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس باغ میں اس وقت داخل ہوئے جب آپ شہید ہو چکے تھے۔ایک اور روایت کے مطابق براء بن مالک کو باغ میں پھینکا گیا تھا لیکن پہلی روایت جو براء بن مالک والی ہے وہ زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔551 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ میں نے عباد بن بشر کو کہتے ہوئے سنا کہ اے ابوسعید ! جب ہم بُز اخہ سے فارغ ہوئے تو اس رات میں نے رویا میں دیکھا کہ گویا آسمان کھولا گیا ہے پھر مجھ پر بند کر دیا گیا ہے۔اس سے مراد شہادت ہے۔ابوسعید کہتے ہیں میں نے کہا ان شاء اللہ جو بھی ہو گا بہتر ہو گا۔وہ کہتے ہیں کہ یمامہ کے روز میں آپ کو دیکھ رہا تھا اور آپ انصار کو پکار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہماری طرف آؤ۔اس پر چار سو آدمی واپس آئے۔براء بن مالک اور ابودجانہ اور عباد بن بشر ان میں آگے آگے تھے یہاں تک کہ وہ سب باغ کے دروازے پر پہنچ گئے۔میں نے عباد بن بشر کی شہادت کے بعد انہیں دیکھا کہ آپ کے چہرے پر بہت زیادہ تلوار کے نشان تھے میں نے آپ کو آپ کے جسم پر موجود ایک علامت سے پہچانا۔حضرت ام عمارہ تاریخ اسلام کی ایک بہادر خاتون پھر حضرت ام عمارہ کا ذکر آتا ہے۔ام عمارہ جو تاریخ اسلام کی بہت بہادر خواتین میں سے ایک تھیں ان کا نام نسیبہ بنت کعب تھا۔یہ غزوہ احد میں بھی شریک ہوئیں اور نہایت پامردی سے لڑیں۔جب تک مسلمان فتح یاب تھے وہ مشک میں پانی بھر بھر کر لوگوں کو پلا رہی تھیں لیکن جب شکست ہوئی تو آنحضرت صلی علیہ نیم کے پاس پہنچیں اور سینہ سپر ہو گئیں۔کفار جب آپ صلی یکم کی طرف بڑھتے تو صحابی