اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 215

حاب بدر جلد 2 215 حضرت ابو بکر صدیق حضرت عکرمہ کا مسیلمہ سے مقابلہ کرنا جب نبی کریم صلی ایم کی وفات ہو گئی اور حضرت ابو بکر نے مرتدین کی طرف مختلف لشکر بھیجے تو حضرت عکرمہ کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ کی طرف بھی بھیجا اور ان کی مدد کے لیے ان کے پیچھے حضرت شرحبيل بن حسنہ کو روانہ فرمایا۔حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ کو یہ تاکید فرمائی کہ شر خبیل کے پہنچنے سے پہلے مسیلمہ سے لڑائی نہ چھیڑ نا مگر حضرت عکرمہ نے جلد بازی سے کام لیا اور حضرت شر خبیل کے پہنچنے سے پہلے ہی اہل یمامہ پر حملہ کر دیا تا کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر آئے مگر وہ مصیبت میں پھنس گئے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مسیلمہ کی فوج بہت بڑی تھی۔حضرت شرحبیل کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ راستے میں ہی رک گئے اور حضرت عکرمہ نے حضرت ابو بکر کی طرف اس واقعہ کے متعلق لکھا تو حضرت ابو بکر نے ان کو لکھا کہ میں تمہاری صورت نہیں دیکھوں گا اور نہ تم مجھے دیکھنا۔جو میں نے تمہیں کہا تھا تم نے اس ہدایت کی نافرمانی کی ہے۔یہاں لوٹ کر مت آنا مبادالو گوں میں بزدلی پیدا ہو۔تم حضرت حذیفہ اور عرفجہ کے پاس چلے جاؤ اور ان کے ساتھ مل کر عمان اور مہرہ والوں سے جنگ کرو۔مہرہ بھی عرب کے جنوب میں مشرقی ساحل پر بحر ہند کے کنارے ایک علاقہ ہے اور پھر وہاں سے اپنی فوج کے ہمراہ یمن اور حضر موت میں جانا اور وہاں جا کر اسلامی لشکر سے جاملنا۔حضر موت بھی یمن کے مشرق میں ایک مملکت ہے جن کی جنوبی سر حد پر سمند رہے۔ایک اور روایت میں حضرت ابو بکر کے خط کے الفاظ اس طرح سے ملتے ہیں کہ استادی جانتے نہیں۔شاگردی سے گھبراتے ہو۔اتنا بھی تمہیں صحیح طرح پتہ نہیں۔جنگوں کے جو طریقے سلیقے ہوتے ہیں اس میں جتنا ماہر ہونا چاہیے اتنے تم ہو نہیں اور سیکھنے سے گھبراتے ہو۔جس دن تم مجھ سے ملو گے دیکھو تمہارے سے کیسا سلوک کرتا ہوں۔تم اس وقت تک کیوں نہ ٹھہرے کہ شتر خبیل آجاتے اور ان کی مدد اور تعاون سے جنگ کرتے۔اب حذیفہ کے پاس جاؤ اور مدد پہنچاؤ۔تم نے اب خلیفہ وقت کے حکم کی نافرمانی کی ہے اور اپنے آپ کو بڑا استاد سمجھتے ہو اور سیکھنا نہیں چاہتے۔اب یہی ہے کہ اب میرے پاس نہ آنا۔جب ملو گے تو پھر میں دیکھوں گا تمہارے سے سلوک کیا کرنا ہے لیکن بہر حال فی الحال اب تمہارا (کام) یہی ہے کہ تم حذیفہ کے پاس جاؤ اور ان کی مدد کرو۔ان کے ساتھ مل کر جس مہم کو وہ سر کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں اس میں ان کی مدد کرو۔اگر ان کو تمہاری پشت پناہی کی ضرورت نہ ہو تو یمن اور حضر موت چلے جاؤ اور مُهَاجِر بن امیہ کی مدد کرو۔حضرت ابو بکر نے مُهَاجِر بن أميه کو کندہ قبیلہ کے مقابلے کے لیے حضر موت میں بھجوایا ہوا تھا۔2 532