اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 204

ناب بدر جلد 2 204 حضرت ابو بکر صدیق 504 حضرت ابو بکر ابو قتادہ سے اس بات پر سخت برہم ہوئے کہ وہ امیر لشکر حضرت خالد کی اجازت کے بغیر لشکر کو چھوڑ کر مدینہ آئے ہیں اور ان کو حکم دیا کہ وہ حضرت خالد کے پاس واپس جائیں۔چنانچہ ابو قتادہ حضرت خالد کے پاس واپس چلے گئے۔تاریخ طبری میں اس کی مزید تفصیل یوں مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں عرض کیا کہ خالد ایک مسلمان کے خون کا ذمہ دار ہے اور اگر یہ بات ثابت نہ ہو سکے تو اس قدر تو ثابت ہے کہ جس سے ان کو قید کر دیا جائے۔اس معاملے میں کہ قتل تو بہر حال ہوا ہے حضرت عمرؓ نے بہت اصرار کیا۔چونکہ حضرت ابو بکر اپنے عمال اور فوجی افسران کو کبھی قید نہیں کرتے تھے اس لیے انہوں نے فرمایا اے عمر ! اس معاملے میں خاموشی اختیار کرو۔خالد بن ولید سے اجتہادی غلطی ہوئی ہے۔تم ان کے بارے میں ہر گز کچھ مت کہو اور حضرت ابو بکر نے مالک کا خون بہا ادا کر دیا۔حضرت ابو بکر نے خالد کو خط لکھ کر آنے کو کہا۔وہ آئے اور انہوں نے اس واقعہ کی پوری تفصیل بیان کی اور معذرت چاہی۔حضرت ابو بکر نے ان کی معذرت قبول کی۔505 ایک روایت میں حضرت خالد کے مدینہ حاضر ہونے کا واقعہ یوں بیان ہوا ہے کہ خالد اس مہم سے پلٹ کر مدینہ آئے اور مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔جب مسجد میں آئے تو حضرت عمرؓ نے ان سے کہا تم نے ایک مسلمان کو قتل کر دیا اور پھر اس کی بیوی پر قبضہ کر لیا۔بخدا میں تم کو سنگسار کروں گا۔خالد نے اس وقت ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ حضرت ابو بکر کا بھی یہی خیال ہے۔وہ حضرت ابو بکر کے پاس چلے گئے۔سارا واقعہ سنایا۔معذرت چاہی اس پر حضرت ابو بکر نے ان کی معذرت قبول فرمائی۔حضرت ابو بکر کی خوشنودی حاصل کر کے وہ اٹھ آئے۔حضرت عمر مسجد میں بیٹھے تھے۔خالد نے کہا: اے ام شملہ کے بیٹے میرے پاس آؤ۔کیا کہتے ہو۔حضرت عمررؓ سمجھ گئے کہ حضرت ابو بکر ان سے راضی ہو گئے ہیں جو حضرت خالد اُس طرح بات کر کے جارہے ہیں۔حضرت عمر خاموشی سے اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے اور خالد سے کوئی بات نہیں کی۔ایک اور روایت کے مطابق مالک کا بھائی مستقم بن نویرہ حضرت ابو بکر کے پاس اپنے بھائی کا قصاص لینے آیا اور اس نے درخواست کی کہ ہمارے قیدی رہا کر دیے جائیں۔حضرت ابو بکر نے قیدیوں کی رہائی کے لیے اس کی درخواست قبول کر لی اور حکم لکھ دیا اور مالک کی دیت ادا کر دی۔حضرت عمرؓ نے حضرت خالد کے متعلق ابو بکر سے سخت اصرار کیا کہ ان کو بر طرف کر دیا جائے اور کہا کہ ان کی تلوار میں بے گناہ مسلمان کا خون ہے مگر حضرت ابو بکر نے کہا عمرا یہ نہیں ہو سکتا۔میں اس تلوار کو جسے اللہ نے کفار کے لیے نیام سے نکالا ہے پھر نیام میں نہیں رکھوں گا۔17 506 507 مالک بن نویرہ کا قتل اور حضرت خالد بن ولید کی بریت جب حضرت ابو بکر نے دیت ادا کر دی تو شریعت کے مطابق انصاف تو پھر قائم ہو گیا اور مزید