اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 190
محاب بدر جلد 2 190 حضرت ابو بکر صدیق باہر 474 یہ صرف مرتد نہیں تھے یا نبوت کے دعوے دار نہیں تھے بلکہ یہ مسلمانوں سے جنگیں بھی کیا کرتے تھے اور ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی کرتے تھے۔عيينه بن حصن کون تھا؟ اس کے متعلق لکھا ہے۔عُینہ وہی شخص ہے جو غزوۂ احزاب کے موقع پر بنو فزارہ کا سردار تھا۔اس غزوہ کے دوران کفار کے تین لشکروں نے بنو قریظہ سے مل کر مدینہ پر زبر دست حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو ان میں سے ایک لشکر کا سر دار عیینہ تھا۔غزوہ احزاب میں کفار کی شکست کے بعد بھی اس نے مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن رسول اللہ صلی الیکم نے شہر سے ہر نکل کر اس کے حملہ کو روکا اور اسے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔یہ غزوہ ذی قرد کہلاتا ہے۔عینہ بن حصن فتح مکہ سے پہلے اسلام لایا اور اس میں شرکت کی۔فتح مکہ کے موقع پر یہ تھا۔غزوہ حنین اور طائف میں بھی شرکت کی۔نبی کریم صلی ا ہم نے اس کو نو ہجری میں بنو تمیم کی سرکوبی کے لیے پچاس سواروں کے ساتھ بھیجا تھا جن میں کوئی بھی انصار یا مہاجر صحابی نہ تھا اور اس سریہ کا سبب یہ ہوا تھا کہ بنو تمیم نے آنحضرت صلی علیکم کے عامل کو صدقات لے کر جانے سے روک دیا تھا۔پھر عہد صدیقی میں باغی مرتدوں کے ساتھ یہ بھی فتنہ ارتداد کا شکار ہو گیا اور طلیحہ کی طرف مائل ہو گیا اور اس کی بیعت کر لی۔بہر حال بعد میں پھر یہ اسلام کی طرف بھی لوٹ آیا تھا۔475 مسلمان الله سة یہ لوگ پہلے بھی اسلام کے خلاف لڑتے رہے تھے۔پھر مسلمان ہوئے پھر لڑائی شروع کر دی۔پھر لکھا ہے کہ جب عبس اور ذُبیان اور ان کے حامی بزاخہ مقام پر جمع ہو گئے تو طلیحہ نے بنو جَدِيله اور غوث کو جو کہ قبیلہ طے کی دوشاخیں تھیں کہلا بھیجا کہ تم فوراً میرے پاس آجاؤ۔ان قبائل کے کچھ لوگ فوراً اس کے پاس پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی قوم والوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ ان سے آملیں۔پس وہ لوگ بھی طلیحہ کے پاس آگئے۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو ذُو القصّہ سے روانہ کرنے سے قبل حضرت عدی سے کہا کہ تم اپنی قوم یعنی قبیلہ کلے کے پاس جاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ برباد ہو جائیں۔جنگ کریں اور برباد ہوں۔حضرت عدی اپنی قوم کے پاس آئے اور ذَر وہ اور غارِب میں ان کو روک لیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور ان کو خوف دلایا۔ذَر وہ بھی غطفان کے علاقے میں ایک جگہ کا نام ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بنو مرہ میں بن عوف کے چشمہ کا نام ہے۔وہ بہر حال ان کے پیچھے ہی حضرت خالد روانہ ہو گئے۔حضرت ابو بکر نے ان کو حکم دیا تھا کہ پہلے وہ کے قبیلہ کے اطراف سے مہم کا آغاز کریں اور پھر بُز اخہ کا رخ کریں اور وہاں سے آخر میں بطاخ جائیں اور جب وہ دشمن سے فارغ ہو جائیں تو تاوقتیکہ ان کو جدید احکام موصول نہ ہوں وہ کسی اور جگہ حملے کا قصد نہ کریں۔حضرت ابو بکرؓ نے اس امر کا اظہار کیا کہ آپ خود خیبر کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔آپ نے یہ اظہار کر دیا۔لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ حضرت ابو بکر خود خیبر کی طرف روانہ ہو رہے ہیں اور پھر