اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 189

اصحاب بدر جلد 2 189 حضرت ابو بکر صدیق 472 سة جو اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین کے خلاف سونتا ہے۔2 حضرت ابو بکر نے حضرت خالد بن ولید کو طلیحہ اور عیینہ کی طرف بھیجا۔ان دونوں مخالفین کا مختصر تعارف بھی پیش ہے۔طلیحہ اسدی جھوٹے مدعیان نبوت میں سے ایک تھا جو رسول اللہ صلی المیریم کی حیات طیبہ کے آخری دور میں نمودار ہوا۔اس کا نام طلیحہ بن خویلد بن نوفل بن نَضْلَه اسدی تھا۔عَامُ الوُفُود یعنی وفود کی آمد والے سال میں ، نو ہجری میں اپنی قوم بنو اسد کے ساتھ رسول اللہ صلی ایم کی خدمت میں حاضر ہوا اور مدینہ پہنچ کر ان لوگوں نے رسول اللہ صلی الی یکم کو سلام کیا اور احسان جتاتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں۔ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔پھر آنحضرت صلی علیم سے یہ کہا کہ حالانکہ آپ نے ہماری طرف کسی کو نہیں بھیجا اور ہم اپنے پیچھے والوں کے لیے کافی ہیں۔جب یہ لوگ واپس چلے تو اور کر اور گئے تو آنحضرت صلم کی زندگی میں ہی طلیحہ ارتداد کا شکار ہوا اور نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا اور سکھیراء کو اپنا فوجی مرکز بنایا۔سمیراء: قوم عاد کے ایک شخص کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا تھا اور مدینہ سے مکہ کی جانب ایک منزل کے فاصلے پر یہ واقع ہے۔اس علاقے کے ارد گرد سیاہ رنگ کے پہاڑ ہیں جن کی وجہ سے اس کا یہ نام رکھا گیا۔بہر حال اس نے جو دعویٰ کیا تھا عوام اس کے مرید ہو گئے۔لوگوں کی گمراہی کا پہلا سبب یہ ہوا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، پانی ختم ہو گیا تو لو گوں کو شدید پیاس لگی۔اس نے لوگوں سے کہا کہ تم میرے گھوڑے اعلان پر سوار ہو کر چند میل جاؤ وہاں تمہیں پانی ملے گا۔انہوں نے ایسا ہی کیا اور انہیں پانی مل گیا۔اس وجہ سے یہ دیہاتی اس فتنہ کا شکار ہو گئے۔پانی کی کوئی جگہ اس نے دیکھی ہو گی پہلے ہی۔بڑی ہوشیاری سے اس نے ان کو وہاں بھیجا اور اس وجہ سے جو ان پڑھ لوگ تھے وہ اس کے فتنہ کا شکار ہوئے۔بہر حال اس کی بے حقیقت باتوں میں سے یہ بھی تھی کہ اس نے نماز سے سجدوں کو ختم کر دیا تھا۔یعنی نمازوں میں سجدے کی ضرورت کوئی نہیں اور اس کا یہ زعم تھا کہ آسمان سے اس پر وحی آتی ہے اور مُسَجّع و مقفی عبارتیں بطور وحی کے پیش کیا کرتا تھا۔تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کا ہن لوگ مسجع و مقفی عبارتیں لوگوں کے سامنے پیش کر کے ان پر رعب بٹھاتے تھے۔طلیحہ بھی کا ہن تھا۔طلیحہ اسدی کے نفس نے اس کو دھو کا میں ڈالا۔اس کا مسئلہ زور پکڑ گیا۔اس کی طاقت بڑھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ ہم کو اس کے معاملے کی اطلاع ملی تو آپ نے ضرار بن ازور اسیدی کو اس سے قتال کے لیے روانہ کیا لیکن ضرار کے بس کی بات نہ تھی کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی قوت بڑھ چکی تھی۔خاص طور پر اسد اور غطفان دونوں حلیفوں کے اس پر ایمان لے آنے کے بعد مزید بڑھ گئی تھی۔رسول اللہ صلی ال نیم کی وفات ہو گئی اور طلیحہ کے معاملے کا تصفیہ نہ ہوا۔جب خلافت کی باگ ڈور ابو بکر نے سنبھالی اور باغی مرتدین کو کچلنے کے لیے فوج تیار کی اور قائدین مقرر کیے تو طلیحہ اسدی کی طرف حضرت ابو بکر نے خالد بن ولید کی قیادت میں فوج روانہ کی۔473 الله