اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 146
حاب بدر جلد 2 146 حضرت ابو بکر صدیق چڑھے اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔پھر فرمایا اے لوگو! تم میں سے بعض کی گفتگو اسامہ کو امیر بنانے کے متعلق مجھے پہنچی ہے۔اگر میرے اسامہ کو امیر بنانے پر تم نے اعتراض کیا ہے تو اس سے پہلے اس کے باپ کو میرے امیر مقرر کرنے پر بھی تم اعتراض کر چکے ہو۔خدا کی قسم ! وہ امارت کے لائق تھا اور اس کے بعد اس کا بیٹا بھی امارت کے لائق ہے وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور یقینا یہ دونوں ایسے ہیں کہ ان کے بارے میں ہر قسم کی نیکی اور بھلائی کا خیال کیا جا سکتا ہے۔پس اسامہ کے لیے خیر کی نصیحت پکڑو کیونکہ یہ تم میں سے بہترین لوگوں میں سے ہے۔یہ 10/ ربیع الاول اور ہفتے کا دن تھا یعنی آنحضور صلی للی کم کی وفات سے دو دن قبل کی بات ہے۔وہ مسلمان جو لشکر میں حضرت اسامہ کے ساتھ روانہ ہو رہے تھے وہ رسول اللہ صلی ال ی م و و وداع کر کے مجرف کے مقام پر ان شامل ہونے کے لیے چلے گئے۔رسول اللہ صلی للی کم کی بیماری بڑھ گئی لیکن آپ تاکید فرماتے رہے کہ لشکرِ اسامہ کو بھیجو۔اتوار کے دن رسول اللہ صلی ال نیم کا درد اور زیادہ ہو گیا۔حضرت اسامہ لشکر میں سے واپس آئے تو آپ صلی علیہ یکم بے ہوشی کی حالت میں تھے۔اس روز لوگوں نے آپ کو دوا پلائی تھی۔حضرت اسامہ نے سر جھکا کر رسول اللہ صلی علیکم کو بوسہ دیا۔آپ بول نہیں سکتے تھے لیکن آپ صلی الیہ تم اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے اور حضرت اسامہ کے سر پر رکھ دیتے۔حضرت اسامہ کہتے ہیں کہ میں نے سمجھ لیا کہ آپ میرے لیے دعا کر رہے ہیں۔حضرت اسامہ لشکر کی طرف واپس آگئے۔حضرت اسامہ سوموار کو دوبارہ رسول اللہ صلی للی نیم کے پاس آئے تو آپ کو افاقہ ہو گیا تھا۔آپ نے اسامہ سے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کی برکت سے روانہ ہو جاؤ۔حضرت اسامہ آنحضرت علی ای کم سے رخصت ہو کر اپنے لشکر کی طرف روانہ ہوئے اور لوگوں کو چلنے کا حکم دیا۔آپ نے ابھی کوچ کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی والدہ حضرت ام ایمن کی طرف سے ایک شخص یہ پیغام لے کر آیا کہ آنحضرت صلی ایم کا آخری وقت دکھائی دے رہا ہے۔اس پر حضرت اسامہ رسول اللہ صلی علیہم کے پاس حاضر ہوئے اور حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہ بھی ان کے ساتھ تھے اور آپ پر نزع کی حالت تھی۔12 / ربیع الاول کو پیر کے دن سورج ڈھلنے کے بعد آپ صلی علیہ یکم نے وفات پائی جس کی وجہ سے مسلمانوں کا لشکر مجرف مقام سے مدینہ واپس آ گیا اور حضرت بُریدہ بن حصیب حضرت اسامہ کا جھنڈا لے کر آئے اور رسول اللہ صلی علیم کے دروازے پر گاڑ دیا۔ایک روایت کے مطابق جب حضرت اسامہ کا لشکر ذی خُشب میں تھا تو رسول اللہ صلی ایم کی وفات ہو گئی۔یہ ذی خُشب مدینہ سے شام کے راستے پر ایک وادی کا نام ہے۔بہر حال جب حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی گئی تو حضرت ابو بکر نے حضرت بریدہ بن حصیب کو حکم دیا کہ جھنڈا لے کر اسامہ کے گھر جاؤ کہ وہ اپنے مقصد کے لیے روانہ ہوں۔حضرت بریدہ جھنڈے کو لشکر کی پہلی جگہ پر لے آئے۔381 اس لشکر کی تعداد تین ہزار بیان کی جاتی ہے۔اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت اسامہ بن زید کو سات سو آدمیوں کے ساتھ شام کی 382