اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 145
محاب بدر جلد 2 145 حضرت ابو بکر صدیق اس کے بعد آپ صلی علی کلم بنفس نفیس مسلمانوں کو ہمراہ لے کر جانب تبوک روانہ ہوئے لیکن دشمن کو میدان میں نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہوئی اور اس نے شام کے اندرونی علاقوں میں گھس کر مسلمانوں کے حملوں سے محفوظ ہونے میں اپنی خیریت سمجھی۔ان غزوات کے باعث مسلمانوں کے متعلق رومیوں کے ارادے بہت خطرناک ہو گئے اور انہوں نے عرب کی سرحد پر پیش قدمی کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔اسی وجہ سے رسول اللہ صلی الی تم نے اسامہ کو بطور پیش بندی شام روانہ ہونے کا حکم دیا تھا۔378 اور ایک مقصد جنگ موتہ کے شہیدوں کا بدلہ لینا بھی تھا۔لشکر اسامہ کی تیاری رسول اللہ صلی ال نیم کی وفات سے دوروز قبل بروز ہفتہ مکمل ہوئی اور اس کا آغاز آپ کی بیماری سے قبل ہو چکا تھا۔آپ صلی علیہم نے ماہ صفر کے آخر میں رومیوں سے جنگ کی تیاری کا حکم دیا۔حضرت اسامہ کو بلایا اور فرمایا اپنے والد کی شہادت گاہ کی طرف روانہ ہو جاؤ اور انہیں گھوڑوں سے روند ڈالو۔میں نے تم کو اس 379 لشکر کا امیر مقرر کیا ہے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی الی یم نے فرمایا بلقاء اور دار دوم کو گھوڑوں کے ذریعہ سے روند ڈالو۔یعنی یہ لوگ ایسے ہیں جو جنگ کرنا چاہتے ہیں ان سے اچھی طرح جنگ کرو۔بلقاء جو ہے وہ ملک شام میں واقع ایک علاقہ ہے جو دمشق اور وادی القری کے درمیان ہے۔دارُوم کے بارے میں یہ تعارف لکھا ہے کہ مصر جاتے ہوئے فلسطین میں غزہ کے بعد ایک مقام ہے۔380 بہر حال ملک شام کے لیے روانگی کا ارشاد کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔صبح ہوتے ہی اہل انٹی پر حملہ کرو۔اُبٹی بھی ملک شام میں بلقاء کی جانب ایک جگہ کا نام ہے اور تیزی کے ساتھ سفر کرو تاان تک اطلاع پہنچنے سے پہلے پہنچ جاؤ۔پس اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کامیابی عطا کرے تو وہاں قیام مختصر رکھنا اور اپنے ساتھ راستہ دکھانے والے لے جانا اور مخبروں اور جاسوسوں کو اپنے آگے روانہ کر دو۔نبی کریم صلی علی کلم نے حضرت اسامہ کے لیے اپنے ہاتھ سے ایک جھنڈا باندھا۔پھر کہا: اللہ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کرو اور اس سے جنگ کرو جس نے اللہ کا انکار کیا۔حضرت اسامہ یہ یعنی آنحضور صلی الیکم کے ہاتھ سے بندھا ہو ا جھنڈا لے کر نکلے اور اسے حضرت بریدہ بن حصیب کے سپرد کیا اور مجرف مقام پر لشکر کو جمع کیا۔جرف بھی مدینہ سے تین میل شمال کی جانب ایک جگہ ہے۔بہر حال مہاجرین و انصار کے معززین میں سے کوئی شخص بھی باقی نہ بچا مگر اس کو اس جنگ کے لیے بلا لیا گیا۔ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ ، حضرت سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہ یہ سب بھی شامل تھے۔کچھ لوگوں نے باتیں شروع کر دیں اور کہا یہ لڑکا اولین مہاجرین پر امیر بنایا جارہا ہے۔اس بات پر رسول اللہ صلی املی کی سخت ناراض ہوئے۔آپ نے اپنے سر کو ایک رومال سے باندھا ہوا تھا اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔آپ منبر پر