اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 141
صحاب بدر جلد 2 141 حضرت ابو بکر صدیق ہیں اور نیز اس مشابہت کو جو حضرت عیسیٰ بن مریم اور اس امت کے مسیح موعود میں ہے جو دونوں خلافتوں کے آخر سلسلہ میں ہیں اجلی بدیہیات کر کے دکھلا دیا۔مثلاً یشوع اور ابو بکر میں وہ مشابہت در میان رکھ دی کہ گویا وہ دونوں ایک ہی وجود ہے یا ایک ہی جو ہر کے دو ٹکڑے ہیں اور جس طرح بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد یوشع بن نون کی باتوں کے شنوا ہو گئے اور کوئی اختلاف نہ کیا اور سب نے اپنی اطاعت ظاہر کی یہی واقعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو پیش آیا اور سب نے آنحضرت صلی علیکم کی جدائی میں آنسو بہا کر دلی رغبت سے حضرت ابو بکر کی خلافت کو قبول کیا۔غرض ہر ایک پہلو سے حضرت ابو بکر صدیق کی مشابہت حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ثابت ہوئی۔خدا نے جس طرح حضرت یشوع بن نون کو اپنی وہ تائیدیں دکھلائیں کہ جو حضرت موسیٰ کو دکھلایا کرتا تھا ایسا ہی خدا نے تمام صحابہ کے سامنے حضرت ابو بکر کے کاموں میں برکت دی اور نبیوں کی طرح اس کا اقبال چمکا۔اُس نے مفسدوں اور جھوٹے نبیوں کو خدا سے قدرت اور جلال پا کر قتل کیا تا کہ اصحاب رضی اللہ عنہم جائیں کہ جس طرح خدا آنحضرت صلی تعلیم کے ساتھ تھا اس کے بھی ساتھ ہے۔ایک اور عجیب مناسبت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حضرت یشوع بن نون علیہ السلام سے ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت یشوع بن نون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ایک ہولناک دریا سے جس کا نام یز دن ہے عبور مع لشکر کرنا پیش آیا تھا اور پر دن میں ایک طوفان تھا اور عبور غیر ممکن تھا اور اگر اس طوفان سے عبور نہ ہو تا تو بنی اسرائیل کی دشمنوں کے ہاتھوں سے تباہی متصور تھی اور یہ وہ پہلا امر ہولناک تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد یشوع بن نون کو اپنے خلافت کے زمانہ میں پیش آیا اس وقت خدا تعالیٰ نے اس طوفان سے اعجازی طور پر یوشع بن نون اور اس کے لشکر کو بچالیا اور پر دن میں خشکی پیدا کر دی جس سے وہ بآسانی گذر گیا وہ خشکی بطور جوار بھاٹا تھی یا محض ایک فوق العادت اعجاز تھا۔بہر حال اس طرح خدا نے ان کو طوفان اور دشمن کے صدمہ سے بچایا اسی طوفان کی مانند بلکہ اس سے بڑھ کر آنحضرت صلی الہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر خلیفۃ الحق کو مع تمام جماعت صحابہ کے جو ایک لاکھ سے زیادہ تھے پیش آیا یعنی ملک میں سخت بغاوت پھیل گئی اور وہ عرب کے بادیہ نشین جن کو خدا نے فرمایا تھا قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدُخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات :15) ضرور تھا کہ اس پیشگوئی کے مطابق وہ بگڑتے تا یہ پیشگوئی پوری ہوتی۔“ یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بادیہ نشین کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے تو کہہ دو تم ایمان نہیں لائے لیکن اتنا کہو کہ ہم مسلمان ہو چکے ہیں جبکہ ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔بہر حال آپ فرماتے ہیں پس ایسا ہی ہوا اور وہ سب لوگ مرتد ہو گئے اور بعض نے زکوۃ سے انکار کیا اور چند شریر لوگوں نے پیغمبری کا دعویٰ کر دیا جن کے ساتھ کئی لاکھ بد بخت انسانوں کی جمعیت ہو گئی اور دشمنوں کا شمار اس قدر بڑھ گیا کہ صحابہ کی جماعت ان کے آگے کچھ بھی چیز نہ تھی اور ایک سخت طوفان ملک میں برپا ہوا یہ طوفان اس خوفناک پانی سے بہت بڑھ کر تھا جس کا سامنا حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کو پیش آیا تھا اور جیسا کہ یوشع بن نون حضرت موسیٰ کی وفات کے بعد ناگہانی طور پر اس سخت ابتلا میں مبتلا ہو گئے تھے