اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 142

باب بدر جلد 2 142 حضرت ابو بکر صدیق کہ دریا سخت طوفان میں تھا اور کوئی جہاز نہ تھا اور ہر ایک طرف سے دشمن کا خوف تھا۔یہی ابتلا حضرت ابو بکر کو پیش آیا تھا کہ آنحضرت صلی الم فوت ہو گئے اور ارتداد عرب کا ایک طوفان برپا ہو گیا اور جھوٹے پیغمبروں کا ایک دوسر ا طوفان اس کو قوت دینے والا ہو گیا۔یہ طوفان یوشع کے طوفان سے کچھ کم نہ تھا بلکہ بہت زیادہ تھا اور پھر جیسا کہ خدا کی کلام نے حضرت یوشع کو قوت دی اور فرمایا کہ جہاں جہاں تُو جاتا ہے میں تیرے ساتھ ہوں۔تو مضبوط ہو اور دلاور بن جا اور بے دل مت ہو۔تب یشوع میں بڑی قوت اور استقلال اور وہ ایمان پیدا ہو گیا جو خدا کی تسلی کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ایسا ہی حضرت ابو بکر کو بغاوت کے طوفان کے وقت خدا تعالیٰ سے قوت ملی۔جس شخص کو اس زمانہ کی اسلامی تاریخ پر اطلاع ہے وہ گواہی دے سکتا ہے کہ وہ طوفان ایسا سخت طوفان تھا کہ اگر خدا کا ہاتھ ابو بکر کے ساتھ نہ ہوتا اور اگر در حقیقت اسلام خدا کی طرف سے نہ ہوتا اور اگر در حقیقت ابو بکر خلیفہ حق نہ ہو تا تو اس دن اسلام کا خاتمہ ہو گیا تھا۔مگر یشوع نبی کی طرح خدا کے پاک کلام سے ابو بکر صدیق کو قوت ملی کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس ابتلا کی پہلے سے خبر دے رکھی تھی۔چنانچہ جو شخص اس آیت مندرجہ ذیل کو غور سے پڑھے گا وہ یقین کرلے گا کہ بلا شبہ اس ابتلا کی خبر قرآن شریف میں پہلے سے دی گئی تھی اور وہ خبر یہ ہے کہ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الفيسقُونَ (النور (56) یعنی خدا نے مومنوں کو جو نیکوکار ہیں وعدہ دے رکھا ہے جو اُن کو خلیفے بنائے گا انہی خلیفوں کی مانند جو پہلے بنائے تھے اور اسی سلسلہ خلافت کی مانند سلسلہ قائم کرے گا جو حضرت موسیٰ کے بعد قائم کیا تھا۔“حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود ہی یہ تفسیری تھوڑا سا وضاحتی ترجمہ کیا ہوا ہے۔ہی۔فرمایا: اسی سلسلہ خلافت کی مانند سلسلہ قائم کرے گا جو حضرت موسیٰ کے بعد قائم کیا تھا اور ان کے دین کو یعنی اسلام کو جس پر وہ راضی ہو از مین پر جمادے گا اور اس کی جڑ لگا دے گا اور خوف کی حالت کو امن کی حالت کے ساتھ بدل دے گا۔وہ میری پرستش کریں گے کوئی دوسرا میرے ساتھ نہیں ملائیں گے۔دیکھو اس آیت میں صاف طور پر فرما دیا ہے کہ خوف کا زمانہ بھی آئے گا اور امن جاتا رہے گا مگر خدا اس خوف کے زمانہ کو پھر امن کے ساتھ بدل دے گا۔سو یہی خوف یشوع بن نون کو بھی پیش آیا تھا اور جیسا کہ اس کو خدا کی کلام سے تسلی دی گئی ایسا ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی خدا کی کلام سے تسلی دی گئی۔3734 پہلی مشکل آنحضرت علی ایم کی وفات کا غم حضرت ابو بکر کو خلافت کے بعد جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اُن کا ذکر ہو رہا تھا۔ان میں سے پہلی