اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 94
حاب بدر جلد 2 94 حضرت ابو بکر صدیق کے بارے میں مجھے پہنچی ہے۔اللہ کی قسم ہمیں اپنے اہل میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات نہیں جانتا۔اور لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں جانتا اور میرے گھر والوں کے پاس وہ نہیں آتا تھا مگر میرے ساتھ۔حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بخدا میں اس سے آپ کو معذور ٹھہراؤں گا۔اگر وہ اوس سے ہے تو ہم اس کی گردن مار دیں گے اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہے تو آپ ہمیں ارشاد فرمائیں۔ہم آپ کے ارشاد کے مطابق کریں گے۔اس پر حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہو گئے اور وہ خزرج کے سر دار تھے اور اس سے پہلے وہ بھلے آدمی تھے لیکن انہیں حمیت نے اکسایا اور انہوں نے کہا تم نے غلط کہا۔اللہ کی قسم ! تم اسے نہیں مارو گے۔یعنی آپس میں قبیلوں کی ٹھن گئی۔اور نہ اس پر طاقت رکھتے ہو۔حضرت اُسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا تم نے غلط کہا۔اللہ کی قسم! اللہ کی قسم! ہم اسے ضرور ماریں گے۔تُو فق ہے اور منافقوں کی طرف سے جھگڑتا ہے۔اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اٹھے یہاں تک کہ وہ لڑنے پر آمادہ ہو گئے اور رسول اللہ صلی علیہ کم منبر پر تھے۔آپ صلی اہلیہ کی نیچے تشریف لائے۔ان کو دھیما کیا یہاں تک کہ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش ہو گئے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں سارا دن روتی رہی۔یہ واقعہ تو آپ کے علم میں آگیا لیکن اصل بات یہ تھی کہ حضرت عائشہ کہتی ہیں جو کچھ بھی ہو رہا تھا وہ تو ہو تا رہا لیکن میں سارا دن روتی رہی۔نہ میرے آنسو تھے اور نہ مجھے نیند آئی۔میرے ماں باپ میرے پاس آئے۔میں دورا تیں اور ایک دن روئی یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ یوں رونا میرے جگر کو پھاڑ ڈالے گا۔آپ نے فرمایا اس اثنا میں کہ وہ دونوں یعنی حضرت عائشہ کے والدین جو تھے، میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور میں نے اسے اجازت دی۔وہ بیٹھی اور میرے ساتھ رونے لگی۔ہم اس حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی املی کم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔جب سے میرے متعلق کہا گیا اور جو کہا گیا آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے اور آپ ایک مہینہ اسی طریق پر رہے۔میرے اس معاملے کے بارے میں آپ پر کوئی وحی نہیں ہوئی۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ صلی نیلم نے تشہد پڑھا۔پھر فرمایا اے عائشہ! مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے۔اگر تم بری ہو تو ضر ور اللہ تعالیٰ تمہاری بریت فرمائے گا اور اگر تم سے کوئی لغزش ہو گئی ہو تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور پھر وہ تو بہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس پر رجوع برحمت ہوتا ہے۔جب رسول اللہ صلی علی کی اپنی بات ختم کر چکے تو میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ مجھے ان کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا اور میں نے اپنے باپ یعنی حضرت ابو بکر سے کہا کہ رسول اللہ صلی ایم کو میری طرف سے جواب دیں۔انہوں نے کہا بخدا ! میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ صلی الم سے کیا کہوں۔پھر میں نے اپنی ماں سے کہا آپ میری طرف سے رسول اللہ صلی علیم کو جواب دیں جو آپ نے فرمایا ہے۔انہوں نے کہا بخدا! میں نہیں جانتی میں رسول اللہ صلی اللہ ہم سے کیا کہوں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں میں کم عمر لڑکی تھی ، قرآن زیادہ نہیں جانتی تھی تو میں نے کہا بخدا! مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے سنا