اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 95
حاب بدر جلد 2 95 حضرت ابو بکر صدیق ہے جو لوگ باتیں کر رہے ہیں اور آپ کے دلوں میں وہ بیٹھ گئی ہے اور آپ لوگوں نے اسے درست سمجھ لیا ہے۔اور اگر میں آپ لوگوں سے کہوں کہ میں بری ہوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں تو آپ لوگ مجھے اس میں سچا نہیں سمجھیں گے اور اگر میں آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کر لوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں تو آپ لوگ مجھے سچا سمجھ لیں گے۔اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ لوگوں کی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کے کہ جب انہوں نے کہا تھا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ اور اچھی طرح صبر کرنا ہی میرے لیے مناسب ہے اور جو بات تم بیان کرتے ہو اس کے تدارک کے لیے اللہ ہی سے مددمانگی جاسکتی ہے اور اس سے مدد مانگی جائے گی۔قرآن میں بریت نازل ہونا پھر میں نے اپنے بستر پر رخ بدل لیا اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ میری بریت ظاہر کرے گا لیکن بخدا مجھے گمان نہ تھا کہ وہ میرے متعلق وحی نازل کرے گا۔میں اپنے خیال میں اس سے بہت اونی تھی کہ میرے معاملہ میں قرآن میں بات کی جائے گی لیکن مجھے امید تھی کہ رسول اللہ صل اللہ یکم نیند میں کوئی رویا دیکھیں گے کہ اللہ مجھے بری قرار دیتا ہے۔اللہ کی قسم ! آپ اپنے بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ گھر والوں میں سے کوئی باہر گیا تھا یہاں تک کہ آپؐ پر وحی نازل ہوئی اور آپ صلی علیہ تم پر وہ شدت کی کیفیت طاری ہوئی جو وحی کے وقت آپ کو ہوا کرتی تھی۔یہاں تک کہ سردی کے دن میں آپ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکتا تھا۔جب رسول اللہ صلی علیم سے یہ کیفیت جاتی رہی تو آپ تبسم فرمارہے تھے اور پہلی بات جو آپ نے کی وہ آپ کا مجھے سے یہ فرمانا تھا کہ اے عائشہ! اللہ کی تعریف بیان کرو کیونکہ اللہ نے تمہاری بریت ظاہر کر دی ہے اور میری ماں نے مجھ سے کہا اٹھور سول اللہ صلی علیہ کم کے پاس جاؤ۔میں نے کہا نہیں اللہ کی قسم ! میں آپ صلی علیم کے پاس نہیں جاؤں گی اور اللہ کے سوا کسی کی حمد نہیں کروں گی۔تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: اِنَّ الَّذِيْنَ جَاء وَ بِالإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ (النور:12) یقیناوہ لوگ جنہوں نے ایک بڑا اتہام باندھا تھا تمہیں میں سے ایک گروہ ہے۔جب اللہ نے میری بریت میں یہ نازل فرمایا تو حضرت عائشہ کے والد حضرت ابو بکر صدیق نے کہا اور وہ مسطح بن اثاثہ کو بوجہ اس کے قریبی ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے ، غریب آدمی تھا اس کو خرچ دیا کرتے تھے حضرت ابو بکر نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں مسطح کو کبھی خرچ نہیں دوں گا بعد اس کے جو اس نے حضرت عائشہ کے بارے میں کہا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے نازل وَ لَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسْكِينَ وَ المُهجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَ لِيَعْفُوا وَ لِيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ ۖ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور: 23) اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہیے کہ وہ معاف کر دیں اور در گذر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔