اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 87
حاب بدر جلد 2 87 حضرت ابو بکر صدیق ہوں اور گھوڑوں کو خالی چلا رہے ہوں تو سمجھنا کہ وہ مکہ کی طرف واپس جارہے ہیں۔مدینہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے اور اگر وہ گھوڑوں پر سوار ہوں تو سمجھنا کہ ان کی نیت بخیر نہیں اور آپ نے ان کو تاکید فرمائی کہ اگر قریش کا لشکر مدینہ کا رخ کرے تو فوراً آپ کو اطلاع دی جاوے اور آپ نے بڑے جوش کی حالت میں فرمایا کہ اگر قریش نے اس وقت مدینہ پر حملہ کیا تو خدا کی قسم! ہم ان کا مقابلہ کر کے انہیں اس حملہ کا مزا چکھا دیں گے۔بہر حال یہ جو وفد گیا تھا جلد ہی یہ خبر لے کر واپس آگیا کہ قریش کا لشکر مکہ کی طرف جارہا ہے۔غزوة حمراء الاسد 239 غزوہ حمراء الاسد کے بارے میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی علی ایک ہفتہ کے دن احد سے واپس تشریف لائے۔اتوار کے دن جب فجر طلوع ہوئی تو حضرت بلال نے اذان دی اور بیٹھ کر نبی کریم صلی الی یکم کے باہر تشریف لانے کا انتظار کرنے لگے۔اتنے میں حضرت عبد اللہ بن عمر و بن عوف مزنی نبی کریم صلی ا ہم کو تلاش کرتے ہوئے آئے۔جب آپ صلی علیہ کم باہر تشریف لائے تو انہوں نے کھڑے ہو کر آپ صلی میں نکم کو خبر دی کہ وہ اپنے گھر والوں کی طرف سے آرہے تھے۔جب وہ ملک میں تھے تو قریش نے وہاں پڑاؤ ڈالا ہو ا تھا۔ملل مکہ کے راستے میں مدینہ سے اٹھائیس میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے۔اور انہوں نے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں نے تو کچھ نہیں کیا۔تم لوگوں نے انہیں نقصان پہنچایا یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور تکلیف پہنچائی اور پھر تم نے انہیں چھوڑ دیا اور تباہ نہیں کیا۔کفار نے کہا کہ ان مسلمانوں میں کئی ایسے بڑے بڑے لوگ باقی ہیں جو تمہارے مقابلے کے لیے اکٹھے ہوں گے۔پس واپس چلو تا کہ ہم ان لوگوں کو جڑ سے اکھیڑ دیں جو اُن میں باقی رہ گئے ہیں۔صفوان بن اُمیہ اس بات سے انہیں روکنے لگا یعنی کافروں میں وہ بیٹھا تھاوہ انہیں روکنے لگا اور کہنے لگا کہ اے میری قوم ! ایسانہ کرنا کیونکہ وہ لوگ جنگ لڑ چکے ہیں اور مجھے خوف ہے کہ جو لوگ جنگ میں آنے سے رہ گئے تھے اب وہ بھی تمہارے مقابلہ میں ان کے ساتھ جمع ہو جائیں گے۔تم واپس چلو کیونکہ فتح تو تمہاری ہی ہے کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اگر تم واپس گئے تو تم شکست کھا جاؤ گے۔اس پر رسول اللہ صلی ا تم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کو بلایا اور ان کو اس مزنی صحابی کی بات بتائی تو ان دونوں نے عرض کیا کہ یار سول اللہ صلی له م دشمن کی طرف چلیں تاکہ وہ ہمارے بچوں پر حملہ آور نہ ہوں۔جب رسول اللہ صلی الیکم صبح کی نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو بلوایا اور آپ صلی علی کلم نے حضرت بلال سے فرمایا کہ وہ یہ اعلان کریں کہ رسول اللہ تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ دشمن کے لیے نکلو اور ہمارے ساتھ وہی نکلے جو گذشتہ روز لڑائی میں شامل تھا یعنی احد کی لڑائی میں شامل تھا۔آنحضور صلی ا ولم نے اپنا جھنڈا منگوایا جو کہ گذشتہ روز سے بندھا ہوا تھا۔اس کو ابھی تک کھولا نہیں گیا تھا۔آپ صلی الی یکم نے یہ جھنڈا حضرت علی کو دے دیا اور یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابو بکر کو دیا تھا۔240