اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 80 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 80

حاب بدر جلد 2 80 حضرت ابو بکر صدیق اسیر ان بدر کے متعلق مشاورت اور حضرت ابو بکر کی رائے آنحضور صلی الم کا غزوہ بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورہ اور اس میں حضرت ابو بکر کی رائے کیا تھی ؟ اور اس کے بعد حضرت ابو بکر کی رائے کے مطابق ہی عمل کیا گیا۔اس بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ ”مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی ا ہم نے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا کہ ان کے متعلق کیا کرنا چاہئے۔عرب میں بالعموم قیدیوں کو قتل کر دینے یا مستقل طور پر غلام بنالینے کا دستور تھا مگر آنحضرت صلی للی کم کی طبیعت پر یہ بات سخت ناگوار گزرتی تھی اور پھر ابھی تک اس بارہ میں کوئی الہی احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ میری رائے میں تو ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ آخر یہ لوگ اپنے ہی بھائی بند ہیں اور کیا تعجب کہ کل کو انہی میں سے فدایانِ اسلام پیدا ہو جائیں۔مگر حضرت عمرؓ نے اس رائے کی مخالفت کی اور کہا کہ دین کے معاملہ میں رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں ہونا چاہئے اور یہ لوگ اپنے افعال سے قتل کے مستحق ہو چکے ہیں۔پس میری رائے میں ان سب کو قتل کر دینا چاہئے بلکہ حکم دیا جاوے کہ مسلمان خود اپنے ہاتھ سے اپنے اپنے رشتہ داروں کو قتل کریں۔آنحضرت صلی الی یم نے اپنے فطری رحم سے متاثر ہو کر حضرت ابو بکر کی رائے کو پسند فرمایا اور قتل کے خلاف فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ جو مشرکین اپنا فدیہ وغیرہ ادا کر دیں انہیں چھوڑ دیا جاوے۔چنانچہ بعد میں اسی کے مطابق الہی حکم نازل ہوا۔مدینہ میں حضرت ابو بکر کی بیمار ہونا اور مکہ کی یاد 22566 مدینہ میں ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور دوسرے صحابہ بیمار ہو گئے۔اس بارے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔آپ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الی یکم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر اور حضرت بلال کو بخار ہو گیا۔کہتی تھیں میں ان دونوں کے پاس گئی اور پوچھا۔ابا ! آپ اپنے تئیں کیسا پاتے ہیں؟ اور بلال تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ آپ کہتی ہیں کہ جب حضرت ابو بکر کو بخار ہو تا تو یہ وَالْمَوْتُ أَدْنى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ شعر پڑھتے: كُلُّ امْرِءٍ مُصَبَّحَ فِي أَهْلِهِ ہر شخص جو اپنے گھر والوں میں صبح کو اٹھتا ہے تو اسے سلامتی کی دعائیں دی جاتی ہیں اور حالت یہ ہے کہ موت اس کی جوتی کے تسمہ سے نزدیک تر ہوتی ہے۔اور حضرت بلال جب ان کا بخار اتر جاتا تو بلند آواز سے رو کر بعض شعر پڑھتے تھے جس میں مکہ کی ارد گرد کی آبادیوں کا ذکر ہوتا اور اس کو یاد کر رہے ہوتے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی علیم کے پاس آئی اور سارا احوال آپ سے بیان کیا یعنی حضرت ابو بکڑ نے کیا کہا اور حضرت بلال کیا کہتے ہیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے دعا کی کہ اے اللہ ! مدینہ بھی ہمیں ایسا ہی پیارا بنا دے جیسا کہ ہمیں مکہ پیارا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر اور اس کو صحت بخش مقام بنا اور ہمارے لیے اس کے صاع میں اور مد میں برکت دے۔یہ مد اور صاع وزن کے پیمانے ہیں