اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 74
اصحاب بدر جلد 2 74 حضرت ابو بکر صدیق بن حارثہؓ کے درمیان تھی۔مؤاخات دو مر تبہ ہوئی 209 اس بارے میں تاریخ میں یہ ذکر ملتا ہے کہ مؤاخات دو مر تبہ ہوئی۔چنانچہ صحیح بخاری کے شارح علامہ قسطلاني بیان کرتے ہیں کہ مؤاخات دو مرتبہ ہوئی ، پہلی مرتبہ ہجرت سے قبل مکہ میں مسلمانوں کے درمیان ہوئی جس میں آپ میلی لی تم نے حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کے درمیان اور حضرت حمزہ اور حضرت زید بن حارثہ کے درمیان، حضرت عثمانؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے درمیان، حضرت الله سة زبیر اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے درمیان اور حضرت علی اور اپنے درمیان مواخات قائم فرمائی۔پھر جب آپ صلی میں کم مدینہ تشریف لائے تو مہاجرین اور انصار کے درمیان حضرت انس بن مالک کے گھر میں مؤاخات قائم فرمائی۔ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی میڈم نے سو صحابہ کے درمیان مؤاخات قائم فرمائی یعنی پچاس مہاجرین اور پچاس انصار کے درمیان۔غزوہ بدر اور حضرت ابو بکر 210 اس بارے میں ذکر ملتا ہے کہ غزوہ بدر رمضان 2 1 ہجری مطابق مارچ 624ء میں ہوئی۔211 غزوہ بدر کے لیے روانگی کے وقت صحابہ کے پاس ستر اونٹ تھے اس لیے ایک ایک اونٹ تین تین آدمیوں کے لیے مقرر کیا اور ہر ایک باری باری سوار ہو تا تھا۔حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔212 بدر کے لیے جب آنحضرت صلی علیم نے روانگی فرمائی تو اس کے ذکر میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی علیکم ابو سفیان کے قافلے کی روک تھام کے لیے مدینہ سے نکلے جو شام کی طرف سے آرہا تھا۔جب مسلمانوں کا قافلہ ذفران کی وادی میں پہنچا، یہ مدینہ کے نواح میں صفراء کے قریب ایک وادی ہے تو آپ کو قریش کے بارے میں خبر ملی کہ وہ اپنے تجارتی قافلہ کو بچانے کے لیے نکل پڑے ہیں۔نبی کریم ملایا ہی ہم نے صحابہ کرام سے مشورہ طلب کیا اور ان کو یہ خبر دی کہ مکہ سے ایک لشکر انتہائی تیز رفتاری سے نکل پڑا ہے اس بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ کیا لشکر کے مقابلہ میں تجارتی قافلہ تم کو زیادہ پسند ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔یعنی ایک گروہ نے کہا ہم دشمن کے مقابلہ میں تجارتی قافلے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ایک روایت میں ذکر ملتا ہے کہ ایک گروہ نے کہا کہ آپ نے ہم سے جنگ کا ذکر کیوں نہ کیا تا کہ ہم اس کی تیاری کر لیتے۔ہم تو تجارتی قافلے کے لیے نکلے ہیں۔ایک روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ کو تجارتی قافلے کی طرف ہی جانا چاہیے اور آپ دشمن کو چھوڑ دیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیہ نام کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہو گیا۔حضرت ابو ایوب بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہی واقعہ ہے کہ كَمَا اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَرِهُونَ (انفال:6) کہ جیسے تیرے رب نے تجھے حق * وہاں سن 623ء لکھا ہو ا ہے جو سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔مرتب