اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 75 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 75

اصحاب بدر جلد 2 75 حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ تیرے گھر سے نکالا تھا حالانکہ مومنوں میں سے ایک گروہ اسے یقینانا پسند کر تا تھا۔حضرت مقداد کے تاریخی فقرات اس پر حضرت ابو بکر کھڑے ہو گئے اور گفتگو کی اور بہت عمدہ گفتگو کی۔پھر حضرت عمرؓ گھڑے ہوئے اور گفتگو کی اور بہت عمدہ گفتگو کی۔پھر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے اسی طرف چلیے۔ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اللہ کی قسم ! ہم آپ سے یہ نہ کہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ سے کہا تھا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَا انا ههنا قعِدُونَ (المائدة:25) پس جاتو اور تیر ارب دونوں لڑو ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ آپ کے ساتھ مل کر قتال کریں گے جب تک ہم میں جان ہے۔اللہ کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث فرمایا ہے اگر آپ ہمیں برک الغماد بھی لے کر چلیں تو ہم آپ کے ہمراہ تلواروں سے لڑائی کرتے ہوئے چلتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ ہم وہاں پہنچ جائیں۔برک الغماد مکہ سے پانچ رات کی مسافت پر ایک شہر ہے جو سمند ر سے متصل ہے۔بہر حال حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی العلیم کے چہرہ مبارک کو دیکھا، وہ اس بات پر چمک اٹھا اور آپ اس بات پر بہت زیادہ مسرور ہوئے۔پھر رسول الله صلى یک ایران سے روانہ ہوئے اور بدر کے قریب پڑاؤ کیا۔پھر آپ صلی علی کم اور آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص سوار ہوا۔ابن ہشام کے مطابق وہ حضرت ابو بکر تھے۔ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت ابو بکر کی بجائے حضرت قتادہ بن نعمان یا حضرت معاذ بن جبل تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی علیکم عرب کے ایک بوڑھے شخص کے پاس رکے اور اس سے قریش کے متعلق اور محمد صلی الی روم اور اس کے ساتھیوں کے بارے 213 میں دریافت کیا اور یہ کہ ان کے بارے میں کیا خبر ہے ؟214 جب میدانِ بدر میں جمع ہو گئے تو وہاں آنحضرت صلی می ریم کے لیے ایک سائبان بنایا گیا تھا۔اس کی تیاری کے بارے میں لکھا ہے ”سعد بن معاذر ئیس اوس کی تجویز سے صحابہ نے میدان کے ایک حصہ میں آنحضرت صلی اللی کمی کے واسطے ایک سائبان ساتیار کر دیا اور سعد نے آنحضرت صلی اللی کم کی سواری سائبان کے پاس باندھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ! آپ اس سائبان میں تشریف رکھیں اور ہم اللہ کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔۔۔اور سعد اور بعض دوسرے انصار اس کے گرد پہرہ دینے کے لئے کھڑے ہو گئے۔آنحضرت صلی للہ کم اور حضرت ابو بکر نے اسی سائبان میں رات بسر کی۔“ ایک روایت میں ذکر ہے کہ حضرت ابو بکر سائبان میں ننگی تلوار سونت کر آپ کے پاس حفاظت کے لئے کھڑے رہے اور آنحضرت صلی الی ایم نے رات بھر خدا کے حضور گریہ وزاری سے دعائیں کیں اور لکھا ہے کہ سارے لشکر میں صرف آپ ہی تھے جو رات بھر جاگے۔باقی سب لوگ باری باری اپنی نیند سولئے۔215 215❝