اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 57

اصحاب بدر جلد 2 57 حضرت ابو بکر صدیق مشاورت سے ایک بہت بڑے انعام کا اعلان کرتے ہوئے ارد گرد کی بستیوں میں ڈھنڈور چی بھیج دیے جو اعلان کر رہے تھے کہ محمد (صلی ) کو زندہ یا مردہ لانے کی صورت میں ایک سو اونٹ انعام دیا جائے گا۔اتنے بڑے انعام کی لالچ نے کئی لوگوں کو آنحضرت صلی علیکم کی تلاش کے لیے پھر سے تازہ دم کر دیا۔159 غار ثور سے مدینہ کی طرف سفر کا آغاز دوسری طرف تین دن مکمل ہونے پر حسب وعدہ عبد اللہ بن اریقط اونٹ لے کر آگیا۔صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ ذکر ہے کہ عبد اللہ بن اریقظ سے یہ وعدہ ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ تین 161" دن کے بعد صبح کے وقت اونٹ لے کر پہنچے گا۔160 اس روایت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ غارِ ثور سے مدینہ کی طرف روانگی صبح کے وقت شروع ہوئی تھی مگر بخاری کی ہی دوسری روایت میں یہ وضاحت موجود ہے کہ سفر رات کے وقت شروع ہو ا تھا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے عبد اللہ بن اریقط کا ذکر کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ نحضرت صلی علی کم اور حضرت ابو بکر نے اسے پہلے سے اپنی اونٹنیاں سپر د کر رکھی تھیں اور سمجھا رکھا تھا کہ تین رات کے بعد تیسرے دن کی صبح کو اونٹنیاں لے کر غارِ ثور میں پہنچ جائے۔چنانچہ وہ حسب قرار داد پہنچ گیا۔یہ بخاری کی مشہور روایت ہے مگر مؤرخین لکھتے ہیں کہ : آنحضرت صلی للہ ہم رات کو روانہ ہوئے تھے اور خود بخاری کی ہی ایک دوسری روایت میں اس کی تصدیق پائی جاتی ہے۔اور قرین قیاس بھی یہی ہے کہ آپ رات کو روانہ ہوئے ہوں۔رسول کریم ملی ای کم پیر کی رات یکم ربیع الاول کو غار سے نکل کر روانہ ہوئے۔ابنِ سعد کے مطابق آپ ربیع الاول کی چار تاریخ کو پیر کی رات غار سے روانہ ہوئے۔162 پہلی تاریخ خمیس کی روایت ہے۔حیح بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ امام حاکم نے کہا کہ اس بارے میں متواتر آرا ہیں کہ حضور علی ملی یکم کا مکہ سے نکلنا پیر کے دن تھا اور مدینہ میں داخل ہونا بھی پیر کے دن تھا سوائے محمد بن موسی خوارزمی کے جس نے کہا کہ آنحضرت صلی علیہ یکم مکہ سے جمعرات کے روز نکلے۔علامہ ابن حجر ان روایات میں تطبیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی ال نیم مکہ سے تو جمعرات کو نکلے تھے اور غار میں جمعہ ہفتہ اور اتوار ، تین راتیں قیام کرنے کے بعد پیر کی رات کو مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔163 آنحضرت صلی لکم ایک اونٹنی جس کا نام قضوا ملتا ہے اس پر سوار ہوئے۔حضرت ابو بکڑ نے اپنی اونٹنی پر اپنے ساتھ عامر بن فہیرہ کو سوار کیا اور عبد اللہ بن اریقط اپنے اونٹ پر سوار ہوا۔حضرت ابو بکر کے پاس گھر میں کل سرمایہ پانچ یا چھ ہزار درہم تھا وہ بھی ساتھ لیا۔بعض روایات کے مطابق عامر بن فہیرہ الله