اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 39
اصحاب بدر جلد 2 جو بعد میں مدینہ کے نام سے مشہور ہونے والی تھی۔39 حضرت ابو بکر صدیق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے نبی کریم صلی ا ولم کے اس اجتہاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وہ حدیث جس کے یہ الفاظ ہیں فَذَهَبَ وَهَلِي إِلى أَنهَا الْيَمَامَةُ أَوِ الهَجَرُ، فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ۔صاف صاف ظاہر کر رہی ہے کہ جو کچھ آنحضرت صلی میں ہم نے اپنے اجتہاد سے پیشگوئی کا محل و مصداق سمجھا تھا وہ غلط نکلا۔110 چنانچہ آنحضرت صلی علی کرم نے مکہ کے مظلوم اور ستم رسیدہ صحابہ اور مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت اور رہنمائی فرما دی جس پر مکہ کے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کر دی۔دوسری طرف بیعت عقبہ ثانیہ کے بعد اس ہجرت میں بھی تیزی آگئی اور گھروں کے گھر اور محلوں کے محلے خالی ہونے لگے۔اس صورتحال نے مکہ کے ظالم سر داروں کو مزید اشتعال دلا دیا اور وہ غصہ سے تلملانے لگے جس پر انہوں نے ایک اور قدم اٹھایا کہ ان مظلوموں کو ہجرت کرنے سے بھی روکا جانے لگا اور ظلم و ستم کے نت نئے طریقے نکالے جانے لگے۔کبھی شوہر کو تو جانے دیا لیکن اس کی بیوی اور بچے کو اس سے چھین لیا گیا۔کبھی کسی سے سرمایہ اور مال و دولت اس بہانے ہتھیا لی گئی کہ یہ تو تُو نے ہمارے شہر مکہ میں کمائی تھی۔اگر یہاں سے جانا ہے تو یہ ساری دولت ہمیں دے کر جاؤ۔کبھی ماں کی ممتا کا واسطہ دے کر روک لیا کہ اپنی ماں سے ملتے جاؤ اور پھر راستے میں ہی ان کو رسیوں سے باندھ کر کو ٹھڑیوں میں ڈال دیا۔111 ممکن ہے اللہ تمہارے لیے ایک ساتھی کا انتظام فرمادے لیکن دولتِ ایمان سے مالا مال اور دین اسلام کی محبت میں سرشار صبر وشکر کرنے والے مومنوں کی جماعت دیوانہ وار مدینہ کی طرف مسلسل ہجرت کرتی چلی گئی۔بہر حال مکہ کم و بیش ہر اس مسلمان سے خالی ہو گیا جو ہجرت کر سکتا تھا وہ ہجرت کر گیا۔اب کچھ انتہائی کمزور اور بے بس مسلمان ہی پیچھے رہ گئے تھے جن کا ذکر قرآن کریم نے یوں کیا ہے کہ اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيْلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا (النساء: 99) سوائے ان مردوں اور عورتوں اور بچوں کے جنہیں کمزور بنادیا گیا تھا جن کو کوئی حیلہ میسر نہیں تھا اور نہ ہی وہ نکلنے کی کوئی راہ پاتے تھے۔ان کے علاوہ آنحضرت صلی ا لم ابھی تک مکہ میں ہی اذن خداوندی کا انتظار فرمارہے تھے۔حضرت علی بھی مکہ میں ہی تھے۔البتہ حضرت ابو بکر صدیق ہجرت کی اجازت طلب کرنے حاضر خدمت ہوئے تو ارشاد ہوا کہ ٹھہر جاؤ۔مجھے امید ہے کہ مجھے بھی اجازت دی جائے گی یا ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا کہ تم جلدی نہ کرو۔ممکن ہے اللہ تمہارے لیے ایک ساتھی کا انتظام فرما دے۔ہجرت کے انجانے سفر کی تیاری اس پر حضرت ابو بکر نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا آپ کو بھی