اصحابِ بدرؓ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 557

اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 457

حاب بدر جلد 2 457 حضرت ابو بکر صدیق تعریف و توصیف کی اور آپ کی قدر دانی کی اور یہ اشارہ فرمایا کہ آپ ایسے شخص ہیں کہ جنہیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی گوارا نہ ہوئی۔ہاں آنحضرت کے علاوہ دیگر عزیز واقارب کی جدائی پر آپ راضی ہو گئے۔آپ نے اپنے آقا کو مقدم رکھا اور ان کی طرف دوڑے چلے آئے۔پھر بکمال رغبت آپ نے اپنے تئیں موت کے منہ میں ڈال دیا اور ہر نفسانی خواہش کو اپنی راہ سے ہٹا دیا۔رسول نے آپ کو رفاقت کے لئے بلایا تو موافقت میں لبیک کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب قوم نے حضرت (محمد) مصطفی کو نکالنے کا ارادہ کیا تو بزرگ و برتر اللہ عز و جل کے محبوب نبی آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ہجرت کروں اور تم میرے ساتھ ہجرت کرو گے اور ہم اکٹھے اس بستی سے نکلیں گے۔پس اس پر حضرت صدیق نے الحمد للہ پڑھا کہ ایسے مشکل وقت میں اللہ نے انہیں مصطفی کار فیق بننے کی سعادت بخشی۔وہ پہلے ہی سے نبی مظلوم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نصرت کے منتظر تھے۔یہاں تک کہ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو آپ نے پوری سنجیدگی اور عواقب سے لا پرواہ ہو کر ھم و غم میں آپ کا ساتھ دیا اور قاتلوں کے قتل کے منصوبہ سے خوفزدہ نہ ہوئے۔پس آپ کی فضیلت حکم سریع اور نص محکم سے ثابت ہے اور آپ کی بزرگی دلیل قطعی سے واضح ہے اور آپ کی صداقت روزِ روشن کی طرح درخشاں ہے۔آپ نے آخرت کی نعمتوں کو پسند فرمایا اور دنیا کی ناز و نعمت کو ترک کر دیا۔دوسروں میں سے کوئی بھی آپ کے ان فضائل تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔“ فرماتے ہیں کہ ”اگر تم یہ پوچھو کہ اللہ نے سلسلہ خلافت کے آغاز کے لئے آپ کو کیوں مقدم فرمایا اور اس میں رب رؤوف کی کیا حکمت تھی؟ تو جاننا چاہئے کہ اللہ نے یہ دیکھا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ وارضی ایک غیر مسلم قوم میں سے بکمال قلب سلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہیں اور ایسے وقت میں ایمان لائے جب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یک و تنہا تھے اور فساد بہت شدید تھا۔پس حضرت صدیق اکبر نے اس ایمان لانے کے بعد طرح طرح کی ذلت اور رسوائی دیکھی اور قوم ، خاندان، قبیلے ، دوستوں اور بھائی بندوں کی لعن طعن دیکھی، رحمان خدا کی راہ میں آپ کو تکلیفیں دی گئیں اور آپ کو اسی طرح وطن سے نکال دیا گیا جس طرح جن و انس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالا گیا تھا۔آپ نے دشمنوں کی طرف سے بہت تکلیفیں اور اپنے پیارے دوستوں کی طرف سے لعنت ملامت مشاہدہ کی۔آپ نے بارگاہ رب العزت میں اپنے مال و جان سے جہاد کیا۔آپ معزز اور ناز و نعم میں پلنے کے باوجود معمولی لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔آپ راہ خدا میں (وطن سے) نکالے گئے۔آپ اللہ کی راہ میں ستائے گئے۔آپ نے راہ خدا میں اپنے اموال سے جہاد کیا اور دولت و ثروت کے رکھنے کے بعد آپ فقیروں اور مسکینوں کی طرح ہو گئے۔اللہ نے یہ ارادہ فرمایا کہ آپ پر گزرے ہوئے ایام کی آپ کو جز اعطا فرمائے اور جو آپ کے ہاتھ سے نکل گیا اس سے بہتر بدلہ دے اور اللہ کی رضامندی چاہنے کے لئے جن