اصحابِ بدرؓ (جلد دوم) — Page 33
اصحاب بدر جلد 2 33 حضرت ابو بکر صدیق بنو ہاشم کا خاندانی درہ تھا قیدیوں کی طرح نظر بند کر دیئے گئے۔چند گنتی کے دوسرے مسلمان جو اس وقت مکہ میں موجود تھے وہ بھی آپ کے ساتھ تھے۔944 ان مشکل ترین حالات میں بھی حضرت ابو بکڑ نے رسول کریم صلی اللہ کا ساتھ نہ چھوڑا۔چنانچہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ”جب قریش آنحضرت صلی للی کم کی ایذارسانی پر متفق ہو گئے اور انہوں نے ایک دستاویز لکھی تو حضرت صدیق اس تنگی کے زمانے میں آنحضرت صلی علیم کے شریک حال رہے۔لہذا اس واقعہ کے بارہ میں ابو طالب نے یہ شعر کہا ہے کہ هُمْ رَجَعُوا سَهْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ رَاضِيًّا فَسُتَرَ أَبُو بَكْرِيهَا وَمُحَمَّد اور انہوں نے سھل بن بیضاء کو خوش کرتے ہوئے واپس بھیجا تو اس پر ابو بکر اور محمد خوش ہو گئے۔95 یعنی جب قریش مکہ نے آخر کار بائیکاٹ کا یہ معاہدہ ختم کر دیا تو اس پر ابو طالب نے جو اشعار کہے ان میں سے ایک یہ مذکورہ بالا شعر تھا کہ بائیکاٹ ختم ہونے پر آنحضرت صلی علیکم اور ابو بکر دونوں مسرور ہو گئے۔غلبت الروم کی پیشگوئی اور اس پر حضرت ابو بکر ضیا شرط لگانا سة اس بارے میں بھی ذکر آتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے ارشاد الہ غُلِبَتِ الرُّومُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ کے بارے میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے۔انہوں نے کہا کہ غلبت اور غلبت۔وہ کہتے ہیں کہ مشرکین پسند کرتے تھے کہ اہل فارس اہل روم پر غالب آجائیں کیونکہ یہ اور وہ بت پرست تھے اور مسلمان پسند کرتے تھے کہ اہل روم اہل فارس پر غالب آجائیں اس لیے کہ وہ اہل کتاب تھے۔انہوں نے اس کا ذکر حضرت ابو بکر سے کیا اور حضرت ابو بکڑ نے رسول اللہ صلی علیہ کم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا وہ ضرور غالب آجائیں گے۔حضرت ابو بکر نے اس کا ذکر ان سے یعنی مخالفین سے ، مشرکین سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان اور اپنے درمیان ایک مدت مقرر کر لو۔اگر ہم غالب آگئے تو ہمارے لیے یہ اور یہ ہو گا اور اگر تم غالب آگئے تو تمہارے لیے یہ اور یہ ہو گا۔یعنی اس پر شرط لگائی۔تو انہوں نے پانچ سال کی مدت رکھی اور وہ غالب نہ آسکے۔انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی علیم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس سے زیادہ کیوں نہ رکھ لی۔راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے آپ کی مراد دس تھی۔یہ ترمذی کی ابواب تفسیر کی روایت ہے۔96 رسول کریم صلی ال کم کی چار پیشگوئیاں جو کہ بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئیں صحیح بخاری کی ایک روایت میں رسول کریم صلی للی کم کی چار ایسی پیشگوئیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئیں۔ان پیشگوئیوں میں غلبہ کروم والی پیشگوئی بھی ہے۔چنانچہ مسروق روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس تھے۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی الیم نے جب دیکھا کہ لوگ رو گردانی کر رہے ہیں تو آپ نے فرمایا اے اللہ ! جیسا حضرت یوسف کے وقت میں سات سالہ قحط ڈالا تھا ان پر بھی ایسا ہی قحط نازل کر۔سو اُن پر ایسا قحط پڑا جس نے ہر ایک چیز کو فنا کر دیا یہاں تک کہ آخر